اسلام آباد: مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم سے متعلق آئینی عدالت کی تشکیل اور اس کے ممکنہ مقام کے حوالے سے اہم پیشرفت سامنے آئی ہے۔ ذرائع کے مطابق ترمیم کے بعد نئی آئینی عدالت کو فیڈرل شریعت کورٹ کی موجودہ بلڈنگ میں منتقل کرنے کی تجویز زیرغور ہے۔
باوثوق ذرائع نے بتایا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت کے تیسرے فلور کو فیڈرل شریعت کورٹ کے لیے خالی کرایا جا رہا ہے، جہاں آئندہ آئینی عدالت کے قیام کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے تیسرے فلور سے دفاتر اور ریکارڈ کو دوسری منزلوں یا متبادل جگہوں پر منتقل کرنے کا عمل جاری ہے۔
ذرائع کے مطابق، آئینی عدالت کی تشکیل کے ساتھ ساتھ آئینی اختیارات اور عدالتی دائرہ کار کے نئے خدوخال بھی زیرغور ہیں۔ امکان ہے کہ 27ویں آئینی ترمیم کے تحت آئینی عدالت سات ججز پر مشتمل ہوگی، جب کہ ترمیم میں کمانڈر آف ڈیفنس فورسز کے نام سے ایک نیا عہدہ بھی شامل کیا جا رہا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ کا آج طے شدہ اجلاس، جس میں آئینی ترمیم کی منظوری دی جانی تھی، ملتوی کر دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ سینیٹ کا اجلاس بھی ہفتے کے روز تک موخر کر دیا گیا ہے۔
سیاسی و آئینی حلقے اس پیشرفت کو پاکستان کے عدالتی ڈھانچے میں ایک بڑے ادارہ جاتی و آئینی تبدیلی کی سمت اہم قدم قرار دے رہے ہیں، جو شریعت کورٹ، سپریم کورٹ اور ہائیکورٹس کے درمیان نئے اختیاراتی توازن کو جنم دے سکتی ہے۔

