غزہ: اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں امن معاہدے کی خلاف ورزیاں مسلسل جاری ہیں، جہاں تازہ ترین حملوں میں صیہونی فوج کی فائرنگ اور گولہ باری سے مزید دو فلسطینی شہید ہو گئے۔ مقامی ذرائع کے مطابق شجاعیہ کے علاقے میں چار روز کی مسلسل کھدائی کے بعد ایک فلسطینی کی لاش نکالی گئی، جس کے بعد غزہ میں شہداء کی مجموعی تعداد 68 ہزار 875 تک جا پہنچی ہے۔ اس کے علاوہ غزہ بھر میں زخمیوں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار 679 سے تجاوز کر چکی ہے۔
اسرائیل نے ایک بار پھر حماس پر امن معاہدے کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ حماس نے تمام لاشیں واپس نہیں کیں، جس کی وجہ سے معاہدے کی شرائط متاثر ہوئیں۔ تاہم، حماس نے اسرائیلی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل خود معاہدے کی خلاف ورزی کر رہا ہے، کیونکہ وہ غزہ میں انسانی بنیادوں پر استعمال ہونے والی مشینری کے داخلے کی اجازت نہیں دے رہا، جس کے باعث لاشوں کی بازیابی میں تاخیر ہو رہی ہے۔
ادھر اقوام متحدہ سے منسلک امدادی تنظیموں اور انسانی حقوق کے اداروں نے غزہ کی صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ علاقے میں روزانہ صرف 100 امدادی ٹرک داخل ہو رہے ہیں، جو وہاں موجود لاکھوں متاثرہ افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لیے انتہائی ناکافی ہیں۔
غزہ کے اسپتالوں اور پناہ گزین کیمپوں میں ادویات، خوراک، ایندھن اور پینے کے صاف پانی کی شدید قلت ہے، جب کہ اسرائیلی بمباری کے باعث درجنوں طبی مراکز، اسکول اور پناہ گاہیں تباہ ہو چکی ہیں۔ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ صورتحال دن بدن بگڑتی جا رہی ہے، اور اگر عالمی برادری نے فوری مداخلت نہ کی تو غزہ میں انسانی بحران مزید سنگین شکل اختیار کر سکتا ہے۔
عالمی مبصرین کے مطابق، موجودہ حالات نہ صرف انسانی المیے کو گہرا کر رہے ہیں بلکہ امن معاہدے کے مستقبل پر بھی سوالیہ نشان لگا رہے ہیں۔

