لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کے چیئرمین محسن نقوی آج دبئی روانہ ہوں گے، جہاں وہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل (آئی سی سی) کے اہم اجلاس میں شرکت کریں گے۔ ذرائع کے مطابق یہ اجلاس خاصا کشیدہ اور تنازعات سے بھرپور ہونے کا امکان ہے، کیونکہ بھارتی کرکٹ بورڈ (بی سی سی آئی) نے محسن نقوی کے کردار اور عہدوں سے متعلق متعدد اعتراضات اٹھانے کی تیاری کر رکھی ہے۔
ذرائع کے مطابق بی سی سی آئی نے موقف اختیار کیا ہے کہ محسن نقوی کے پاس بیک وقت دو عہدے، پی سی بی چیئرمین اور وفاقی وزیر داخلہ، آئی سی سی کے گورننس اصولوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہیں۔ بھارتی بورڈ نے مبینہ طور پر ایک تحریری شکایات کی فہرست بھی مرتب کی ہے، جس میں ایشیا کپ کے دوران کیے گئے فیصلوں اور چند سیاسی نوعیت کے واقعات کو بنیاد بنایا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایشیا کپ فائنل کے دوران ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا تھا، جب بھارتی کپتان سوریا کمار یادو نے محسن نقوی سے ٹرافی وصول کرنے سے انکار کر دیا تھا اور ایشین کرکٹ کونسل کے دیگر اراکین سے ٹرافی لینے پر اصرار کیا تھا۔ اس موقع پر محسن نقوی نے بھارتی کپتان کا طویل انتظار کیا، تاہم وہ اسٹیج پر نہیں آئے، جس کے بعد محسن نقوی نے ٹرافی ایشین کرکٹ کونسل کے دفتر بھجوا دی۔
ذرائع کے مطابق پی سی بی کے اندرونی حلقے اس تمام صورتحال میں محسن نقوی کی پوزیشن کو مضبوط قرار دے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ محسن نقوی نے بطور ایشین کرکٹ کونسل صدر اپنے آئینی اور قانونی اختیارات کے اندر رہتے ہوئے تمام فیصلے کیے۔
یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ محسن نقوی نے دبئی اجلاس میں پاکستان کا موقف مؤثر انداز میں پیش کرنے کے لیے بین الاقوامی ماہرین قانون سے تفصیلی مشاورت مکمل کر لی ہے۔ وہ اجلاس میں پاکستان کے کرکٹ مفادات کے دفاع کے لیے واضح اور مضبوط حکمت عملی کے ساتھ شریک ہوں گے۔
کرکٹ مبصرین کے مطابق دبئی میں ہونے والا یہ اجلاس خطے میں کرکٹ ڈپلومیسی کے مستقبل کے لیے ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، جہاں پاکستان اور بھارت کے درمیان کھیلوں کی سفارت کاری سے متعلق اختلافات ایک بار پھر عالمی سطح پر زیر بحث آئیں گے۔

