منیلا: فلپائن میں آنے والے تباہ کن سمندری طوفان کالمیگی نے ملک کے وسطی حصوں کو بری طرح متاثر کیا ہے، جہاں مختلف حادثات میں 140 افراد ہلاک جبکہ درجنوں لاپتہ ہو گئے ہیں۔ طوفان کے باعث شہر سیبو سمیت کئی ساحلی علاقوں میں شدید سیلاب آیا، جس نے گھروں، گاڑیوں، دکانوں اور کنٹینرز کو بہا کر رکھ دیا۔ متاثرہ علاقوں میں مواصلاتی نظام، بجلی کی فراہمی اور سڑکوں کا انفراسٹرکچر مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔
محکمہ موسمیات کے مطابق طوفان کالمیگی کو سال 2025 کا اب تک کا سب سے طاقتور سمندری طوفان قرار دیا جا رہا ہے۔ اس طوفان کے دوران ہواؤں کی رفتار 140 کلومیٹر فی گھنٹہ تک ریکارڈ کی گئی، جس کے نتیجے میں درخت اکھڑ گئے، عمارتیں زمین بوس ہو گئیں اور متعدد جہاز ساحل سے ٹکرا گئے۔
فلپائن کے صدر فیرڈینینڈ مارکوس نے ملک بھر میں ہنگامی حالت نافذ کر دی ہے اور امدادی اداروں کو فوری طور پر ریلیف آپریشن تیز کرنے کی ہدایت دی ہے۔ فوج، پولیس اور مقامی رضاکاروں کو بھی ریسکیو سرگرمیوں میں حصہ لینے کا حکم دیا گیا ہے۔
بین الاقوامی امدادی تنظیموں کے مطابق لاکھوں افراد بے گھر ہو چکے ہیں جبکہ کھانے پینے کی اشیاء اور صاف پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔ کئی مقامات پر طبی امداد نہ پہنچنے کے باعث زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
رپورٹس کے مطابق طوفان کالمیگی اب ویتنام کی جانب بڑھ رہا ہے، جہاں حکام نے ممکنہ تباہی سے نمٹنے کے لیے ہنگامی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔ ویتنامی وزارت داخلہ کے مطابق دو لاکھ ساٹھ ہزار سے زائد فوجی اور ریسکیو اہلکار تعینات کر دیے گئے ہیں، جبکہ ساحلی علاقوں سے شہریوں کے انخلا کا عمل جاری ہے۔ تمام ہوائی اڈے، بندرگاہیں اور مرکزی شاہراہیں حفاظتی بنیادوں پر بند کر دی گئی ہیں۔
ماہرین کے مطابق طوفان کالمیگی نے پورے جنوب مشرقی ایشیا کے لیے ایک بڑا ماحولیاتی اور انسانی بحران پیدا کر دیا ہے، اور اگر بارشوں اور تیز ہواؤں کا سلسلہ اسی شدت سے جاری رہا تو خطے میں تباہی کے اثرات کئی ہفتوں تک برقرار رہ سکتے ہیں۔

