کیلیفورنیا: میٹا کی زیرِ ملکیت مشہور میسجنگ ایپ واٹس ایپ نے اپنے صارفین کے لیے ایک نہایت اہم اور طویل عرصے سے متوقع فیچر متعارف کرانے کی تیاری مکمل کر لی ہے۔ اس نئے فیچر کے تحت اب صارفین کو اپنا فون نمبر شیئر کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی، کیونکہ واٹس ایپ یوزر نیم سسٹم متعارف کرانے جا رہا ہے۔
ٹیک ویب سائٹ WABetaInfo کی رپورٹ کے مطابق، واٹس ایپ کا نیا فیچر 2026 میں عام صارفین کے لیے دستیاب ہوگا۔ ابتدائی طور پر اسے واٹس ایپ بزنس اکاؤنٹس میں متعارف کرایا جا رہا ہے، جہاں کاروباری صارفین کو اپنے پروفائل میں فون نمبر کی جگہ یوزر نیم استعمال کرنے کا آپشن دیا جائے گا۔ صارفین چاہیں تو صرف یوزر نیم ظاہر کریں گے یا پھر اپنی مرضی سے دونوں یعنی نمبر اور یوزر نیم میں سے ایک منتخب کر سکیں گے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ نیا سسٹم واٹس ایپ کی پرائیویسی اور سیکیورٹی پالیسی میں ایک بڑی تبدیلی ثابت ہوگا۔ اس فیچر کی بدولت صارفین کا ذاتی نمبر خفیہ رہے گا اور اجنبی افراد یا غیر ضروری رابطوں سے بچاؤ ممکن ہو سکے گا۔ مزید یہ کہ کاروباری صارفین کے لیے یہ سسٹم کسٹمرز سے رابطہ کرنے کے عمل کو بھی آسان بنائے گا، کیونکہ اب وہ اپنے برانڈ نیم یا کمپنی کے مخصوص یوزر نیم سے پہچانے جائیں گے۔
واٹس ایپ کے ترجمان کے مطابق، یوزر نیم فیچر کا مقصد نہ صرف سیکیورٹی بڑھانا ہے بلکہ آن لائن رابطوں کو محفوظ اور پیشہ ورانہ بنانا بھی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ اس فیچر کے ذریعے صارفین کو اپنی شناخت کے بہتر کنٹرول کی سہولت ملے گی، جو خاص طور پر بزنس کمیونیکیشن کے لیے اہم ثابت ہوگی۔
ذرائع کے مطابق یہ فیچر فی الحال بیٹا ورژن میں محدود صارفین کے لیے دستیاب ہے تاکہ اس کی جانچ پڑتال مکمل کی جا سکے۔ تاہم، اگر تمام تجربات کامیاب رہے تو جون 2026 کے بعد یہ باضابطہ طور پر دنیا بھر کے واٹس ایپ صارفین کے لیے جاری کر دیا جائے گا۔
ماہرین کے خیال میں، یوزر نیم سسٹم کے بعد واٹس ایپ دیگر میسجنگ پلیٹ فارمز جیسے ٹیلیگرام اور سگنل کے مقابلے میں زیادہ جدید اور پرائیویسی فرینڈلی ایپ بن جائے گا، کیونکہ اب رابطہ صرف ایک یوزر نیم کے ذریعے ممکن ہوگا، نہ کہ ذاتی فون نمبر کے انکشاف سے۔
اس طرح، واٹس ایپ کا یہ نیا فیچر نہ صرف روزمرہ صارفین بلکہ کاروباری برادری کے لیے بھی ایک بڑا انقلاب ثابت ہو سکتا ہے، جو ڈیجیٹل پرائیویسی کے ایک نئے دور کی شروعات کرے گا۔

