وزیردفاع خواجہ آصف کا کہنا ہے کہ پاکستان اپنی سرزمین کی حفاظت کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے اور دہشت گردی کا خاتمہ ملک کے کسی بھی حصے میں ہو، چاہے وہ بلوچستان ہو یا خیبرپختونخوا۔
افغانستان کے ساتھ مذاکرات ناکام ہو گئے ہیں اور ہماری واحد ڈیمانڈ یہ تھی کہ افغانستان کی سرزمین سے پاکستان میں دہشت گردی نہ ہو، لیکن افغان حکومت اس کی کوئی ضمانت دینے کے لیے تیار نہیں تھی۔ خواجہ آصف نے کہا کہ افغان سرزمین پر مختلف دہشت گرد تنظیمیں موجود ہیں اور طالبان حکومت ملک کے تمام علاقوں پر مکمل کنٹرول نہیں رکھتی۔ اگر افغانستان کی سرزمین سے دہشت گردی ہوتی ہے تو پاکستان مناسب ردعمل دے گا اور ضرورت پڑنے پر اس کا سدباب بھی کرے گا۔
وزیردفاع نے بھارت کے ساتھ تعلقات پر بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی جاری ہے اور جنگ کے وقت جیسی صورتحال اب بھی برقرار ہے، جبکہ افغانستان کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ممکن ہے۔
خواجہ آصف نے پاکستان کی داخلی پالیسیوں پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ سہیل آفریدی کی پالیسی پاکستان کی ریاست کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتی۔ انہوں نے 27 ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے کہا کہ حکومتی نمبر مکمل ہیں، تاہم تمام ترامیم پر اتفاق نہیں ہو سکا اور کچھ ترامیم زیر غور ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پیپلز پارٹی اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بات چیت مکمل ہو چکی ہے۔

