پشاور: خیبر پختونخوا کے محکمہ زکوٰۃ و عشر اور محکمہ سماجی بہبود میں ایک ارب 81 کروڑ روپے کی مالی بے قاعدگیوں کا انکشاف ہوا ہے۔
آڈیٹر جنرل کی رپورٹ برائے سال 2022-23 کے مطابق، سب سے زیادہ بے قاعدگیاں بیالیس ترقیاتی اسکیموں میں سامنے آئیں، جن میں 23 جاری اور 19 نئی اسکیمیں شامل ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایک ارب 41 کروڑ روپے کی اسکیموں کی سہ ماہی مانیٹرنگ رپورٹس برقرار نہیں رکھی گئیں، جس کی وجہ سے ترقیاتی منصوبے بروقت مکمل نہیں ہوئے اور ان کی لاگت میں اضافہ ہوا۔
آڈٹ پیرازمیں غیر سرکاری تنظیموں کو "گرانٹ ان ایڈ” کے تحت 17 کروڑ روپے کی ادائیگی پر بھی اعتراضات اٹھائے گئے ہیں، جن میں نشئی افراد کی بحالی کے پراجیکٹس بغیر کسی ایم او یو کے جاری کیے گئے۔
مزید برآں، محکمے نے ایک ارب 30 کروڑ روپے فنڈز کی ناقص منصوبہ بندی کے باعث سرمایہ کاری کی، جس سے 24 کروڑ 70 لاکھ روپے کا نقصان ہوا۔ بے سہارا بچوں کے ادارے "زمونگ کور” میں تزئین و آرائش کے دو ٹھیکوں میں خردبرد کی نشاندہی ہوئی، جن میں 32 لاکھ اور 80 لاکھ کے دو ٹھیکے شامل ہیں، اور ان کے کام کے معیار اور کوالٹی پر تحفظات کا اظہار کیا گیا۔
آڈٹ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان تمام بے قاعدگیوں کے حوالے سے کسی بھی محکمانہ کارروائی کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں تھا۔ رپورٹ میں محکمہ جات کی نگرانی میں واضح کمزوریوں اور شفافیت کے فقدان کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔

