اسلام آباد: ہائی کورٹ نے وفاقی دارالحکومت میں بلدیاتی انتخابات جلد کرانے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کر لیا
اسلام آباد ہائی کورٹ میں جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست کی سماعت کی اور ریمارکس دیے کہ بلدیاتی نظام مفلوج ہو چکا ہے اور قانون کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔ عدالت نے کہا کہ لوکل گورنمنٹ کے انتخابات نہ ہونے کی وجہ سے نظام کا بیڑا غرق ہو گیا ہے، نہ کوئی پراپرٹی ٹیکس لگایا جا سکتا ہے اور نہ کوئی کام درست طریقے سے ہو رہا ہے۔ عدالتی فیصلوں کے باوجود انتخابات نہیں کرائے جا رہے اور حیرت کی بات یہ ہے کہ جنہوں نے ایک دن میں الیکشن کرانے کا فیصلہ دیا، وہی بعد میں ڈویژن بینچ میں بیٹھ کر اسے معطل کر دیتے ہیں۔
عدالت نے اسسٹنٹ اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ 2021 سے مسلسل قانون کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل نے مؤقف اپنایا کہ بلدیاتی الیکشن سے متعلق قانون سازی کی وجہ سے انتخابات تاخیر کا شکار ہوئے۔
الیکشن کمیشن کے ڈی جی لاء ارشد خان نے عدالت کو بتایا کہ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2025 میں کی گئی ترامیم میں پیچیدگیاں موجود ہیں۔ جسٹس محسن اختر کیانی نے استفسار کیا کہ الیکشن کمیشن بلدیاتی انتخابات کا شیڈول کب دے رہا ہے۔ عدالت نے کہا کہ اگر الیکشن کمیشن شیڈول فراہم کرے تو وہ متوقع تاریخ دینے کے لیے تیار ہے۔ فریقین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔

