برطانوی وزیر اعظم سر کیئر اسٹارمر نے مسلمانوں کے خلاف نفرت انگیز رویے کو انتہائی مکروہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ اس قسم کی کارروائیوں کی برطانوی معاشرے میں کوئی جگہ نہیں، اور حکومت اسلاموفوبیا کے بڑھتے رجحان سے نمٹنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
ہاؤس آف کامنز سے خطاب کرتے ہوئے کیئر اسٹارمر نے کہا کہ برطانیہ میں حالیہ مہینوں میں مسلمانوں کے خلاف نسل پرستانہ رویوں اور اسلاموفوبک واقعات میں اضافہ تشویشناک ہے، اور حکومت اس حوالے سے سخت پالیسی اپنانے جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی شہری کا مذہب، نسل یا پس منظر اس کے خلاف نفرت کا جواز نہیں بن سکتا اور جو بھی عناصر معاشرے میں تقسیم یا تعصب پیدا کرنا چاہتے ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔
وزیراعظم نے اپنے خطاب میں زور دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پھیلانا، امتیازی سلوک روا رکھنا یا ان کی عبادت گاہوں کو نشانہ بنانا نہ صرف قابلِ مذمت بلکہ غیر انسانی رویہ ہے، جسے برطانیہ کسی صورت قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اس نفرت انگیز رحجان کے خاتمے کے لیے حکومتی سطح پر جامع منصوبہ بندی کی گئی ہے تاکہ اسلاموفوبیا کا مقابلہ کرتے ہوئے مسلمانوں کو ایک محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔
کیئر اسٹارمر نے اس موقع پر حکومتی اقدامات کی تفصیل دیتے ہوئے بتایا کہ مساجد، اسلامی مراکز اور مسلم اسکولوں کی سیکیورٹی کے لیے اضافی فنڈ فراہم کیا جا رہا ہے، جس سے نہ صرف ان اداروں کی نگرانی بہتر بنائی جائے گی بلکہ ممکنہ حملوں اور نفرت انگیز سرگرمیوں کی بروقت نشاندہی بھی ممکن ہو سکے گی۔ انہوں نے کہا کہ نئے فنڈز سے کمیونٹی سپورٹ پروگرامز کو بھی تقویت ملے گی جس سے متاثرین کو قانونی، سماجی اور نفسیاتی مدد فراہم کرنا آسان ہوگا۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ مسلمانوں سمیت تمام اقلیتیں برطانوی معاشرے کا اہم حصہ ہیں اور ان کی سلامتی، آزادی اور مساوی حقوق کی ضمانت ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں اور سماجی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ اسلاموفوبیا کے خلاف متحد ہو کر آواز اٹھائیں تاکہ ایک محفوظ اور ہم آہنگ معاشرہ تشکیل دیا جا سکے۔

