اسرائیل نے تمام عالمی مطالبات پسِ پشت ڈال کر غزہ پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ اسرائیلی فوج نے آج ایک بار پھر جنگ بندی معاہدے کی صریح خلاف ورزی کرتے ہوئے 4 فلسطینی شہید کر دیے، کارروائی میں متعدد افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں شدید بمباری کے باعث اسپتالوں تک پہنچانا مشکل ہو گیا۔
عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل 10 اکتوبر کو ہونے والے غزہ امن معاہدے کے بعد سے اب تک 500 سے زیادہ بار جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیاں کر چکا ہے۔ ان خلاف ورزیوں میں اسرائیلی فوج نے شہری آبادی، رہائشی عمارتوں، امدادی مراکز، اسپتالوں کے اطراف اور پناہ گزین کیمپوں کو براہ راست نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں 300 سے زیادہ فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہو چکے ہیں۔ رپورٹس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی ڈرونز اور آرٹلری اکثر رات کے وقت حملے کرتی ہیں تاکہ شہری آبادی میں زیادہ سے زیادہ خوف اور بے یقینی پیدا کی جا سکے۔
اقوام متحدہ کی امدادی تنظیم اُنروا نے غزہ میں جنگ بندی کے باوجود انسانی صورت حال کو بدستور تباہ کن قرار دے دیا ہے۔ تنظیم کے مطابق غزہ میں بنیادی سہولیات شدید متاثر ہیں، 90 فیصد سے زائد آبادی کا انحصار امداد پر ہے، جبکہ بیشتر لوگوں کو 24 گھنٹوں میں صرف ایک بار کھانا ملتا ہے۔ اُنروا کے مطابق کئی علاقوں میں صاف پانی دستیاب نہیں، ہزاروں خاندان کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، اور ادویات کی شدید قلت ہے۔ بیماروں اور زخمیوں کو طبی امداد دینے کے لیے درکار آلات اور ادویات دستیاب نہ ہونے کے برابر رہ گئی ہیں۔
ادھر امریکا کی حمایت یافتہ متنازع امدادی تنظیم "غزہ ہیومنٹیرین فاؤنڈیشن” نے غزہ میں آپریشن روکنے کا اعلان کر دیا ہے۔ تنظیم نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں نے امدادی سرگرمیاں ناممکن بنا دی ہیں، کیونکہ فاؤنڈیشن کے مراکز پر امداد کی تقسیم کے دوران اسرائیلی فوج نے متعدد بار شدید گولہ باری کی جس میں سیکڑوں فلسطینی شہید اور زخمی ہوئے۔ تنظیم کے نمائندوں کا کہنا ہے کہ وہ بارہا اسرائیلی حکام کو محفوظ راستے فراہم کرنے کی درخواست کرتے رہے، مگر صرف زبانی یقین دہانیاں ملتی رہیں، جن پر کبھی عمل نہ ہوا۔
مزید یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ اسرائیلی حملوں کے باعث کئی بین الاقوامی امدادی قافلے غزہ کی سرحد پر پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹرکوں میں موجود خوراک، بچے کے دودھ، ادویات اور پینے کے پانی جیسی بنیادی اشیاء خراب ہونے لگیں، لیکن اسرائیلی سیکیورٹی چیک پوسٹس پر جان بوجھ کر تاخیر کی جارہی ہے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افراد شدید مشکلات کا شکار ہیں۔
غزہ کے اسپتال، جو پہلے ہی تباہی کے دہانے پر ہیں، مزید دباؤ کا شکار ہو چکے ہیں۔ ڈاکٹروں نے بتایا کہ آپریشن تھیٹر میں بجلی کی عدم دستیابی کے باعث کئی سرجریز منسوخ کرنی پڑیں، جبکہ آکسیجن سلنڈرز اور ایندھن کی قلت مریضوں کی جانوں کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ ادھر خواتین اور بچوں کی بڑی تعداد مناسب طبی سہولیات نہ ملنے کے باعث شدید بیماریوں کا شکار ہے۔
بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسرائیل کی جانب سے مسلسل جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ یورپی یونین، عرب لیگ اور او آئی سی کی جانب سے بھی بارہا مطالبہ کیا گیا کہ اسرائیل فوری طور پر حملے بند کرے اور غزہ میں غیر مشروط امدادی راستے کھولے، مگر اسرائیلی حکومت کی جانب سے ان مطالبات کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے۔
غزہ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ جنگ بندی صرف نام کی رہ گئی ہے، عملی طور پر بمباری پہلے سے زیادہ ہو رہی ہے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ ہر لمحہ خوف کے سائے میں زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں یہ معلوم نہیں کہ اگلا حملہ کس وقت کس علاقے پر ہوگا۔

