ایران کی قیادت کا ٹرمپ کے بیانات پر سخت ردعمل: امریکی مداخلت کی صورت میں سخت کارروائی کی وارننگ
تہران/واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران میں مظاہرین کے تحفظ کے حوالے سے بیانات کے بعد ایرانی قیادت نے سخت ردعمل دیا ہے۔
ایرانی سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای کے مشیر علی شمخانی نے خبردار کیا ہے کہ ایران کی سلامتی میں مداخلت کرنے والے ہر ہاتھ کاٹ دیا جائے گا۔ شمخانی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس” پر اپنے بیان میں کہا کہ ایرانی قوم امریکا کی جانب سے دیگر ممالک کو ’’بچانے‘‘ کے تجربات سے بخوبی واقف ہے، چاہے وہ عراق، افغانستان یا غزہ ہوں۔
دوسری جانب ایران کی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری علی لاریجانی نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بیانات کے جواب میں انگریزی زبان میں ایکس پر کہا کہ اسرائیلی حکام اور ٹرمپ کے بیانات کے بعد پردے کے پیچھے ہونے والی سرگرمیاں واضح ہو گئی ہیں۔
لاریجانی نے مزید کہا کہ ایران مظاہرہ کرنے والے تاجروں اور ہنگامہ آرائی کرنے والوں میں واضح فرق کرتا ہے اور امریکی مداخلت ایران کے اندرونی معاملات میں پورے خطے کو عدم استحکام سے دوچار کر سکتی ہے، جس سے امریکا کے مفادات کو بھی نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ امریکی عوام کو جان لینا چاہیے کہ اس مہم جوئی کی ابتدا خود ٹرمپ نے کی ہے، اس لیے انہیں اپنے فوجیوں کی سلامتی کے بارے میں ہوشیار رہنا چاہیے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا اکاؤنٹ "ٹروتھ” پر جاری بیان میں کہا تھا کہ اگر ایران نے پُرامن مظاہرین پر تشدد کیا یا انہیں قتل کیا تو امریکا ان کے بچاؤ کے لیے کارروائی کرے گا۔ ٹرمپ نے مزید کہا کہ امریکا مظاہرین کو بچانے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔

