کراچی کے علاقے مائی کلاچی کے قریب ایک مین ہول سے چار لاشیں برآمد ہونے کے واقعے نے شہر میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا کے مطابق مرنے والوں میں ایک مرد، دو خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ابتدائی اندازوں کے مطابق لاشیں 10 سے 15 روز پرانی ہیں، جس سے واقعے کی سنگینی میں مزید اضافہ ہو گیا ہے۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں لاشوں پر تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں، جبکہ جس مین ہول سے لاشیں برآمد ہوئیں وہاں خون کے نشانات بھی موجود ہیں۔ ان شواہد کی بنیاد پر واقعے کو قتل قرار دیتے ہوئے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
اے ایس پی کیماڑی کا کہنا ہے کہ لاشیں بری طرح مسخ شدہ حالت میں ہیں، جنہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ پولیس کی جانب سے لاشوں کی شناخت کے عمل کا آغاز کر دیا گیا ہے، جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹس کا انتظار بھی کیا جا رہا ہے تاکہ موت کی اصل وجہ سامنے آ سکے۔
واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے پولیس اور متعلقہ اداروں کو فوری اور شفاف تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جائے اور ذمہ دار عناصر کا تعین کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔
مراد علی شاہ نے مزید کہا کہ سندھ حکومت متاثرہ خاندانوں کو انصاف فراہم کرے گی اور شہریوں کی جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ اس افسوسناک واقعے میں ملوث عناصر کسی رعایت کے مستحق نہیں ہوں گے۔
