ادارہ شماریات نے کہا ہے کہ مالی سال 2024-2025 کے دوران پاکستان میں ڈیجیٹل کنیکٹیوٹی میں نمایاں اور حوصلہ افزا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملک میں ٹیکنالوجی کے بڑھتے ہوئے استعمال اور ڈیجیٹل طرزِ زندگی کی عکاسی کرتا ہے۔
ادارہ شماریات کے مطابق پاکستان کے 96 فیصد گھرانوں کو موبائل یا اسمارٹ فون کی سہولت حاصل ہو چکی ہے، جبکہ ملک بھر میں 70 فیصد سے زائد گھرانے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ڈیجیٹل سہولیات اب شہری علاقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ دیہی علاقوں میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سال 2019 کے مقابلے میں انٹرنیٹ استعمال میں دوگنا سے زائد اضافہ ہوا ہے، جو ایک بڑی پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔ صوبوں کے لحاظ سے جائزہ لیا جائے تو خیبر پختونخوا ڈیجیٹل رسائی میں 77 فیصد کے ساتھ سرفہرست رہا ہے، جہاں انفرادی سطح پر انٹرنیٹ استعمال 17 فیصد سے بڑھ کر 57 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ اضافہ آن لائن تعلیم، ڈیجیٹل بینکنگ اور ای گورننس کے فروغ کا نتیجہ ہے۔
ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق ملک بھر میں 92 فیصد افراد موبائل فون استعمال کر رہے ہیں، جو مواصلاتی نظام میں نمایاں بہتری کو ظاہر کرتا ہے۔ رپورٹ میں یہ دلچسپ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ شہری علاقوں میں خواتین کا انٹرنیٹ استعمال مردوں سے زیادہ ہے، جبکہ مجموعی طور پر خواتین اور مرد یکساں شرح سے انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں، جو ڈیجیٹل برابری کی جانب ایک مثبت اشارہ ہے۔
ادارہ شماریات کا مزید کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں کے دوران عوام میں ڈیجیٹل آگاہی میں اضافہ ہوا ہے، آن لائن تحفظ کے حوالے سے شعور بہتر ہوا ہے اور ڈیجیٹل مہارتوں میں بھی نمایاں بہتری دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق یہ رجحان مستقبل میں پاکستان کی ڈیجیٹل معیشت کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہی رفتار برقرار رہی تو پاکستان خطے میں ڈیجیٹل ترقی کے میدان میں ایک مضبوط مقام حاصل کر سکتا ہے، تاہم اس کے لیے انٹرنیٹ کی معیاری سہولت، سستے ڈیٹا پیکجز اور ڈیجیٹل تعلیم پر مزید توجہ دینا ناگزیر ہوگا۔

