واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وینزویلا پر امریکی فوجی حملوں کی تصدیق کر دی ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ پر جاری بیان میں کہا کہ امریکا نے وینزویلا اور اس کے صدر پر بڑے پیمانے پر حملے کیے ہیں، اور وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے ملک سے باہر منتقل کر دیا گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق صدر ٹرمپ وینزویلا کے معاملے پر پاکستانی وقت کے مطابق رات 9 بجے پریس کانفرنس کریں گے۔
امریکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق وینزویلا کے دارالحکومت کاراکس میں کم از کم 7 دھماکے ہوئے ہیں۔ ایک امریکی عہدیدار نے خبر ایجنسی سے بات کرتے ہوئے تصدیق کی کہ امریکا وینزویلا کے خلاف فوجی کارروائی کر رہا ہے۔
وینزویلا حکومت نے تصدیق کی کہ امریکی حملے کاراکس، میرانڈا، آراگوا اور لاگویرا ریاستوں میں ہوئے، اور ان حملوں کا مقصد وینزویلا کے تیل اور معدنی وسائل پر قبضہ کرنا ہے۔ حکومت نے اس حملے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا ہمارے وسائل حاصل کرنے میں کامیاب نہیں ہوگا اور ہم امریکی فوجی جارحیت کو مسترد کرتے ہیں۔ وینزویلا کے صدر نے حملوں کے بعد ملک میں ایمرجنسی نافذ کر دی ہے۔
روسی میڈیا کے مطابق امریکی حملوں میں وینزویلا کے دفاعی ہیڈکوارٹرز کو نشانہ بنایا گیا اور وینزویلا کے صدر صدارتی محل چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔
اسی دوران کولمبیا کے صدر نے کہا ہے کہ کاراکس پر میزائل داغے جا رہے ہیں اور کولمبیا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کاراکس میں حملوں پر ہنگامی اجلاس بلانے کا مطالبہ کرے گا۔

