امریکا کے حملے کے بعد گرفتار ہونے والے وینزویلا کے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو لے کر امریکی طیارہ نیویارک پہنچ گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق وہ طیارہ جس میں وینزویلا کے گرفتار صدر اور ان کی اہلیہ سوار تھے، نیویارک کی اسٹیورٹ ایئر نیشنل گارڈ بیس پر اترا۔
رپورٹس کے مطابق وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کو امریکی بوئنگ 757 طیارے کے ذریعے نیویارک منتقل کیا گیا۔ یہ پرواز دنیا بھر میں سب سے زیادہ ٹریک کی جانے والی پروازوں میں شامل رہی، جس پر عالمی میڈیا اور سوشل میڈیا صارفین کی نظریں جمی رہیں۔
امریکی میڈیا کا کہنا ہے کہ نیویارک پہنچنے کے بعد نکولس مادورو کو ہیلی کاپٹر کے ذریعے مین ہٹن منتقل کیا گیا، جہاں سے انہیں بروکلین کے حراستی مرکز میں رکھا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مادورو کو سخت سکیورٹی میں رکھا گیا ہے اور ان پر خصوصی نگرانی جاری ہے۔
امریکی حکام کے مطابق نکولس مادورو کو جلد نیویارک کی عدالت میں پیش کیا جائے گا، جہاں ان کے خلاف منشیات اسمگلنگ اور دہشت گردی سے متعلق الزامات کے تحت باقاعدہ مقدمہ چلایا جائے گا۔ امریکی وزارتِ انصاف کا مؤقف ہے کہ یہ الزامات کئی برسوں سے زیرِ تفتیش تھے اور اب قانونی کارروائی کا آغاز کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر اچانک فوجی کارروائی کی تھی، جس کے دوران امریکی ڈیلٹا فورس نے دارالحکومت کاراکاس میں واقع صدارتی محل پر چھاپہ مار کر صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو حراست میں لے لیا تھا۔ اس کارروائی کے بعد دونوں کو فوری طور پر وینزویلا سے باہر منتقل کر دیا گیا تھا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے نیوز بریفنگ میں بتایا تھا کہ ان کی ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا میں غیر معمولی اور انتہائی منظم آپریشن کیا۔ ٹرمپ کے مطابق اس آپریشن میں متعدد جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا جبکہ اس کی خفیہ تیاری دسمبر کے اوائل میں مکمل کر لی گئی تھی۔ انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکا دوسرے حملے کے لیے بھی تیار ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈ روم سے گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں امریکا میں ان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ اس گرفتاری کے بعد عالمی سطح پر شدید ردعمل سامنے آ رہا ہے اور وینزویلا سمیت کئی ممالک نے امریکی کارروائی کو جارحیت قرار دیا ہے۔

