امریکی حملے اور صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے بعد وینزویلا کی سیاست ایک نئے اور غیر متوقع موڑ میں داخل ہو گئی ہے۔ اس پیش رفت کے دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا کورینا ماچاڈو سے رابطہ نہ کرنے کا اعلان سامنے آیا ہے، جس نے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔
یاد رہے کہ امریکا نے ہفتے کے روز وینزویلا پر اچانک فوجی کارروائی کی، جس کے دوران امریکی ڈیلٹا فورس نے دارالحکومت کاراکاس میں صدارتی محل پر آپریشن کرتے ہوئے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو گرفتار کر کے امریکا منتقل کر دیا۔ اس کارروائی کو عالمی سطح پر غیر معمولی اور انتہائی حساس اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس حوالے سے تفصیلی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ہدایت پر امریکی فوج نے وینزویلا میں غیر معمولی آپریشن کیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی میں متعدد جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے حصہ لیا، جبکہ اس کی خفیہ تیاری دسمبر کے اوائل میں مکمل کر لی گئی تھی۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ امریکا دوسرے ممکنہ حملے کے لیے بھی تیار ہے۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ کو ان کے بیڈ روم سے گرفتار کر کے نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے، جہاں امریکا میں ان کے خلاف منشیات اور دہشت گردی کے الزامات کے تحت مقدمہ چلایا جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا وینزویلا میں قانون کی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے مزید کہا کہ وینزویلا میں اقتدار کی منتقلی تک امریکا وہاں انتظامی کردار ادا کرے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہماری تیل کی کمپنیاں وینزویلا جائیں گی اور وہاں کام کریں گی، جسے انہوں نے وینزویلا کی معیشت کی بحالی سے جوڑا۔
اس تمام صورتحال میں سب سے زیادہ حیران کن پہلو صدر ٹرمپ کا وہ بیان ثابت ہوا جس میں انہوں نے وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر اور نوبیل امن ایوارڈ یافتہ ماریا کورینا ماچاڈو کو عملاً نظر انداز کر دیا۔ ٹرمپ نے اپنی نیوز کانفرنس میں ماچاڈو کا ذکر صرف ایک صحافی کے سوال کے جواب میں کیا۔
جب صدر ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا انہوں نے وینزویلا پر حملے اور صدر مادورو کی گرفتاری کے بعد ملک کے سیاسی مستقبل پر ماریا کورینا ماچاڈو سے بات کی ہے، تو ٹرمپ نے دو ٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ نہیں، انہوں نے ایسا کوئی رابطہ نہیں کیا۔
صدر ٹرمپ نے اس موقع پر کہا کہ ان کے خیال میں ماریا کورینا ماچاڈو کے لیے وینزویلا کی قیادت سنبھالنا بہت مشکل ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ ماچاڈو کے پاس ملک کے اندر وہ عوامی حمایت اور احترام موجود نہیں ہے جو وینزویلا جیسے ملک کی قیادت کے لیے ضروری سمجھا جاتا ہے۔
یہ بیان ماریا کورینا ماچاڈو کے لیے ایک بڑا سیاسی جھٹکا ثابت ہوا، کیونکہ چند گھنٹے قبل ہی انہوں نے سوشل میڈیا پر ایک خط جاری کیا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ وینزویلا کے لیے آزادی کا وقت آ چکا ہے۔ اس خط میں انہوں نے سیاسی تبدیلی کی امید ظاہر کی تھی۔
ماچاڈو نے اپوزیشن رہنما ایڈمنڈو گونزالیز کی حمایت کرتے ہوئے انہیں ملک کا نیا لیڈر قرار دیا اور کہا کہ اب وینزویلا میں امن آئے گا اور سیاسی قیدیوں کو رہا کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ 2024 کے انتخابات میں حقیقی کامیابی ایڈمنڈو گونزالیز نے حاصل کی تھی اور انہیں فوری طور پر اپنی آئینی ذمے داریاں سنبھالنی چاہئیں۔
صدر ٹرمپ کے حالیہ بیانات کے بعد یہ سوال شدت اختیار کر گیا ہے کہ آیا امریکا واقعی وینزویلا کی اپوزیشن قیادت پر انحصار کرے گا یا وہ ملک کے مستقبل کے حوالے سے کوئی نیا سیاسی بندوبست ترتیب دینے جا رہا ہے۔ آنے والے دنوں میں یہ صورتحال نہ صرف وینزویلا بلکہ پورے خطے کی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

