وینزویلا کے خلاف امریکی فوجی کارروائی کے معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج ہوگا۔
وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کے بعد عالمی سطح پر شدید ردِعمل سامنے آ رہا ہے، جس کے پیشِ نظر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج طلب کر لیا گیا ہے۔ سلامتی کونسل کے اجلاس میں رکن ممالک کی جانب سے امریکی کارروائی، خطے کی بدلتی صورتحال، بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کے خدشات اور وینزویلا میں انسانی و معاشی اثرات پر تفصیلی بحث متوقع ہے۔ کئی ممالک نے اس اقدام کو خطے کے امن و استحکام کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عالمی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی حملوں کے بعد وینزویلا کی تیل برآمدات مکمل طور پر مفلوج ہو چکی ہیں۔ بتایا جا رہا ہے کہ اہم بندرگاہوں، آئل ٹرمینلز اور سپلائی چین متاثر ہونے کے باعث خام تیل کی ترسیل تقریباً رک گئی ہے، جس سے نہ صرف وینزویلا کی معیشت کو شدید دھچکا پہنچا ہے بلکہ عالمی توانائی منڈیوں میں بھی بے چینی پھیل گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر صورتحال طویل ہوئی تو عالمی تیل کی قیمتوں پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
غیر ملکی خبر رساں اداروں کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ اقتدار کی منتقلی تک امریکا وینزویلا کے معاملات خود چلائے گا۔ امریکی صدر کا کہنا ہے کہ وینزویلا کے وسیع تیل ذخائر کو امریکی تحویل میں لیا جائے گا اور امریکی تیل کمپنیاں وینزویلا جا کر پیداوار اور انتظامی امور سنبھالیں گی۔ اس بیان کو عالمی سطح پر سخت تنقید کا سامنا ہے، جبکہ کئی ممالک نے اسے خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ادھر امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وینزویلا کے صدر نکولس مادورو پر امریکا میں سال 2020 میں فردِ جرم عائد کی گئی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مادورو کو ایک “بہت پُرکشش پیش کش” بھی کی گئی تھی، تاہم انہوں نے اسے قبول نہیں کیا۔ مارکو روبیو نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ گیم نہیں کھیلتے، وہ جو کہتے ہیں، کر کے دکھاتے ہیں، اور امریکا اپنے فیصلوں پر پوری قوت کے ساتھ عملدرآمد کرتا ہے۔
دوسری جانب چیئرمین امریکی جوائنٹ چیفس آف اسٹاف جنرل ڈین کین (Dan Caine) نے انکشاف کیا ہے کہ وینزویلا میں کیے گئے امریکی فوجی آپریشن میں 150 سے زائد بمبار اور فائٹر طیاروں نے حصہ لیا۔ ان کے مطابق یہ آپریشن نہایت منظم اور جدید عسکری حکمتِ عملی کے تحت انجام دیا گیا، جس میں فضائی برتری حاصل کرنا بنیادی مقصد تھا۔ عسکری ماہرین کے مطابق اس پیمانے کی کارروائی خطے میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتی ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس اس بحران میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتا ہے، تاہم یہ دیکھنا باقی ہے کہ آیا عالمی برادری کسی مشترکہ موقف تک پہنچ پائے گی یا نہیں۔ وینزویلا کی صورتحال، امریکی اقدامات اور عالمی ردِعمل آنے والے دنوں میں بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

