ٹینس کے عالمی شہرت یافتہ کھلاڑی نواک جوکووچ نے پروفیشنل ٹینس پلیئرز ایسوسی ایشن سے علیحدگی کا اعلان کر دیا۔
دنیا کے نامور ٹینس اسٹار اور 24 گرینڈ سلم ٹائٹلز کے حامل نواک جوکووچ نے پروفیشنل ٹینس پلیئرز ایسوسی ایشن (PTPA) سے مکمل طور پر علیحدگی اختیار کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ اس حوالے سے نواک جوکووچ نے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی پیغام جاری کیا جس میں انہوں نے اپنے فیصلے کی وجوہات بھی بیان کیں۔
نواک جوکووچ کا کہنا تھا کہ انہوں نے یہ فیصلہ انتہائی محتاط انداز میں طویل سوچ بچار اور غور و فکر کے بعد کیا ہے۔ ان کے مطابق وہ اب پروفیشنل ٹینس پلیئرز ایسوسی ایشن کا حصہ نہیں رہیں گے اور اس پلیٹ فارم سے مکمل دستبردار ہو رہے ہیں۔
جوکووچ نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ان کے اس فیصلے کی بنیادی وجوہات شفافیت، گورننس سے متعلق تحفظات اور یہ خدشات تھے کہ ان کی آواز، خیالات اور ذاتی امیج کو کس انداز میں پیش کیا جا رہا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ ایسے ماحول کا حصہ نہیں رہ سکتے جہاں کھلاڑی کی نمائندگی اس کی اصل سوچ اور ارادوں کی درست عکاسی نہ کرے۔
عالمی نمبر ون رہنے والے سابق ٹینس اسٹار نے مزید کہا کہ اب ان کی توجہ اپنی ٹینس فیملی، کھیل کی بہتری اور ٹینس کے دائرہ کار میں مثبت کردار ادا کرنے پر مرکوز رہے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگرچہ وہ ایسوسی ایشن سے علیحدہ ہو رہے ہیں، تاہم کھلاڑیوں کے لیے ان کی نیک خواہشات ہمیشہ برقرار رہیں گی۔ ان کے الفاظ میں، “میری جانب سے یہ باب اب بند ہو چکا ہے۔”
واضح رہے کہ نواک جوکووچ پروفیشنل ٹینس پلیئرز ایسوسی ایشن کے بانی ارکان میں شامل تھے۔ اس ایسوسی ایشن کی بنیاد اس مقصد کے تحت رکھی گئی تھی کہ انفرادی ٹینس کھلاڑیوں، جو بطور آزاد کنٹریکٹرز کام کرتے ہیں، کی آواز کو ایک مضبوط اور مؤثر پلیٹ فارم فراہم کیا جا سکے تاکہ وہ اپنے حقوق، مسائل اور مطالبات اعلیٰ سطح تک پہنچا سکیں۔
پی ٹی پی اے کے پلیٹ فارم سے کھلاڑیوں کی فلاح و بہبود، میچز کی شیڈولنگ، انعامی رقم، سفر کے مسائل اور دیگر پیشہ ورانہ معاملات پر مسلسل آواز اٹھائی جاتی رہی۔ اس کے ساتھ ساتھ اس ایسوسی ایشن نے مینز اور ویمنز ٹورز، انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن اور اسپورٹس انٹیگریٹی ایجنسی کے خلاف قانونی کارروائی بھی کی تھی، جس کے باعث عالمی ٹینس حلقوں میں یہ تنظیم خاصی توجہ کا مرکز بنی رہی۔
نواک جوکووچ کی علیحدگی کو عالمی ٹینس دنیا میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ وہ نہ صرف اس ایسوسی ایشن کے بانی تھے بلکہ کھلاڑیوں کے حقوق کے سب سے بڑے حامیوں میں بھی شمار کیے جاتے رہے ہیں۔ ان کے اس فیصلے کے بعد پروفیشنل ٹینس پلیئرز ایسوسی ایشن کے مستقبل اور کردار پر بھی کئی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔

