بنگلادیش کے ٹی 20 ورلڈکپ کے لیے ٹیم بھارت بھیجنے سے انکار کے بعد بھی مودی سرکار کی ہٹ دھرمی برقرار ہے۔
بنگلادیش کرکٹ بورڈ کی جانب سے سیکیورٹی خدشات کے باعث ٹی 20 ورلڈکپ کے لیے ٹیم بھارت نہ بھیجنے کے واضح اعلان کے باوجود بھارتی حکومت اور بھارتی کرکٹ بورڈ نے اپنے مؤقف میں کسی قسم کی لچک دکھانے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی بورڈ نے ممکنہ شرمندگی سے بچنے اور دباؤ کم کرنے کے لیے میچز کو کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کی تجویز کو مسترد کر دیا ہے۔
بھارتی کرکٹ بورڈ کا مؤقف ہے کہ وینیوز کی تبدیلی سے شدید انتظامی افراتفری پیدا ہو سکتی ہے۔ بھارتی حکام کے مطابق ٹیموں کے ہوٹلز پہلے ہی بک کیے جا چکے ہیں، ہوائی جہاز کی ٹکٹیں خریدی جا چکی ہیں اور مکمل لاجسٹک منصوبہ بندی ہو چکی ہے، اس لیے محض کسی کی خواہش یا پسند کی بنیاد پر وینیوز تبدیل کرنا ممکن نہیں۔ بھارتی بورڈ کا کہنا ہے کہ ایسے فیصلے سے ٹورنامنٹ کے شیڈول، براڈکاسٹنگ اور سیکیورٹی انتظامات بری طرح متاثر ہوں گے۔
دوسری جانب بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے اپنے فیصلے پر سختی سے قائم رہنے کا اعلان کیا ہے۔ ترجمان بی سی بی کے مطابق ٹی 20 ورلڈکپ کے لیے بنگلہ دیشی ٹیم کو بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کھلاڑیوں اور آفیشلز کی حفاظت اور سیکیورٹی خدشات کے پیش نظر کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں بورڈ آف ڈائریکٹرز کا ہنگامی اجلاس طلب کیا گیا تھا، جس میں تمام صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حکومت سے مشاورت کے ساتھ یہ فیصلہ کیا گیا۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ موجودہ حالات میں کھلاڑیوں اور ٹیم آفیشلز کے تحفظ کو یقینی بنانا ممکن نہیں، اس لیے یہ قدم اٹھانا ناگزیر تھا۔ بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ ان حالات میں بنگلہ دیشی ٹیم ٹی 20 ورلڈکپ کے لیے بھارت کا سفر نہیں کرے گی اور اس حوالے سے آئی سی سی کو باضابطہ طور پر درخواست کر دی گئی ہے کہ میچز کسی دوسرے محفوظ ملک میں منتقل کیے جائیں۔
کرکٹ حلقوں میں اس صورتحال کو انتہائی تشویشناک قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے عالمی ٹورنامنٹ میں شریک ٹیم کی سیکیورٹی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر آئی سی سی نے بروقت فیصلہ نہ کیا تو یہ معاملہ نہ صرف ٹورنامنٹ بلکہ عالمی کرکٹ کی ساکھ کے لیے بھی سوالیہ نشان بن سکتا ہے۔ بنگلہ دیش کے فیصلے کے بعد دیگر ٹیموں کی جانب سے بھی سیکیورٹی پر سوالات اٹھائے جانے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
اب نگاہیں آئی سی سی پر مرکوز ہیں کہ وہ بنگلہ دیش کے خدشات کو کس حد تک سنجیدگی سے لیتا ہے اور آیا ٹورنامنٹ کے وینیوز میں تبدیلی یا کسی متبادل انتظام پر غور کیا جاتا ہے یا نہیں، جبکہ بھارت کی جانب سے سخت مؤقف نے اس تنازعے کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

