ایران اس وقت ایک غیر معمولی اور نازک مرحلے سے گزر رہا ہے جہاں اسے بیک وقت دو بڑے بحرانوں کا سامنا ہے۔ ایک جانب ملک بھر میں بڑھتی ہوئی داخلی بے چینی، احتجاج اور عوامی غصہ ہے جبکہ دوسری طرف امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ممکنہ فوجی کارروائی کے خطرات نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
انہی حالات کے تناظر میں مغربی میڈیا میں ایران کی اعلیٰ قیادت سے متعلق ایک خفیہ متبادل منصوبے کی تفصیلات سامنے آئی ہیں، جس نے عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
برطانوی میڈیا نے انٹیلی جنس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا ہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بدترین صورتِ حال کے پیش نظر ایک ’’پلان بی‘‘ تیار کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اگر ملک میں احتجاج قابو سے باہر ہو گئے، سکیورٹی فورسز نے حالات پر قابو پانے میں ناکامی دکھائی یا ان کی وفاداری میں دراڑ پڑی تو آیت اللہ علی خامنہ ای ایران چھوڑ کر ماسکو منتقل ہو سکتے ہیں۔
رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ اس ممکنہ انخلا کی منصوبہ بندی کافی عرصے سے کی جا رہی ہے۔ اس منصوبے کے تحت آیت اللہ علی خامنہ ای اپنے قریبی حلقے، اہل خانہ اور بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کے ہمراہ ملک سے باہر جا سکتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق تہران سے محفوظ نکلنے کے لیے مختلف ممکنہ راستوں پر غور کیا جا چکا ہے جبکہ بیرونِ ملک جائیدادیں، اثاثے اور نقد رقم بھی محفوظ کی جا رہی ہے تاکہ کسی ہنگامی صورتحال میں فوری انخلا ممکن ہو سکے۔
ایران کے اندر حالات دن بدن کشیدہ ہوتے جا رہے ہیں۔ مہنگائی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہرے اب 40 سے زائد شہروں تک پھیل چکے ہیں۔ ایرانی حکام اور تجزیہ کاروں کے مطابق خراب معیشت، بے قابو مہنگائی، کرنسی کی قدر میں شدید کمی، امریکی پابندیاں، بدعنوانی اور بدانتظامی عوامی غصے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ ان حالات میں سکیورٹی فورسز بھی شدید معاشی دباؤ کا شکار ہیں، جس سے ان کی کارکردگی اور وفاداری پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
دوسری جانب بیرونی محاذ پر بھی دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کھلے عام ایرانی مظاہرین کی حمایت کر چکے ہیں اور فوجی مداخلت کی دھمکیاں بھی دے چکے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے سخت بیانات نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی جانب سے ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کے اظہار کو تہران میں ایک اشتعال انگیز اقدام قرار دیا جا رہا ہے۔
ایرانی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ وینزویلا اور شام کی مثالیں ایرانی قیادت کے لیے ایک واضح وارننگ ہیں، جہاں معاشی بدحالی اور سیاسی عدم استحکام نے ریاستی ڈھانچے کو شدید کمزور کر دیا۔ ان کے مطابق اگر ایران میں بھی یہی سلسلہ جاری رہا تو حالات کسی بھی وقت ناقابلِ کنٹرول ہو سکتے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کا مظاہرین کے خلاف سخت بیانیہ اور انہیں شرپسند عناصر قرار دینا وقتی طور پر ریاستی گرفت مضبوط دکھا سکتا ہے، مگر طویل المدت طور پر یہ رویہ حالات کو مزید بگاڑ سکتا ہے۔ ان کے مطابق حکومت کے پاس نہ تو بگڑتی ہوئی معیشت کو سنبھالنے کے لیے کوئی واضح اور مؤثر حکمتِ عملی موجود ہے اور نہ ہی جوہری پروگرام پر ایسے کسی سمجھوتے کے آثار نظر آ رہے ہیں جو امریکا اور اسرائیل کو مطمئن کر سکیں۔
مجموعی طور پر ایران ایک ایسے دوراہے پر کھڑا ہے جہاں داخلی دباؤ اور بیرونی خطرات ایک دوسرے کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔ ایسے میں مغربی میڈیا میں سامنے آنے والی یہ رپورٹس کہ ایران کی اعلیٰ قیادت نے ہنگامی انخلا کا متبادل منصوبہ تیار کر رکھا ہے، نہ صرف خطے بلکہ پوری دنیا کے لیے ایک اہم اشارہ سمجھی جا رہی ہیں۔

