اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں وینزویلا کی موجودہ صورتحال پر ہنگامی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وینزویلا پر امریکی کارروائی اور اس کے اثرات پر تفصیلی بحث کی گئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امریکی مندوب نے کہا کہ امریکہ کا وینزویلا اور اس کی عوام کے خلاف کوئی جنگ نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ امریکا وینزویلا پر قبضہ نہیں کر رہا بلکہ اس کا مقصد وہاں امن، آزادی اور انصاف کو فروغ دینا ہے۔
امریکی مندوب نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے کشیدگی کم کرنے کے لیے سفارت کاری کو موقع دیا، وینزویلا کے صدر مادورو کو متبادل راستے پیش کیے، اور خطے میں استحکام قائم رکھنے کی کوشش کی۔ تاہم، انہوں نے خبردار کیا کہ اگر وینزویلا نے درست رویہ اختیار نہ کیا تو امریکا ممکنہ طور پر دوسرا حملہ بھی کر سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا وینزویلا میں منشیات کی دہشت گردی سے امریکی شہریوں کو بچانے کے لیے اقدامات میں کمی نہیں کرے گا۔
اجلاس میں اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس کا بیان بھی پڑھ کر سنایا گیا۔ سیکرٹری جنرل نے امریکی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کے خلاف قرار دیا اور کہا کہ وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی۔ انہوں نے بتایا کہ وینزویلا کے صدر اور ان کی اہلیہ امریکی تحویل میں ہیں، جس سے وہاں عدم استحکام پیدا ہونے اور خطے پر منفی اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ہے۔
انتونیو گوتریس نے تمام فریقین سے اپیل کی کہ وہ اقوام متحدہ چارٹر کی پاسداری کریں اور جامع، جمہوری مکالمہ شروع کریں تاکہ معاشرے کے تمام طبقات اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کر سکیں۔

