اسلام آباد: متعلقہ ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیرِاعظم شہباز شریف کو تبدیل کرنے کے لیے کسی مبینہ "ونڈر بوائے” کو تلاش نہیں کیا جا رہا۔
ذرائع نے واضح کیا کہ وزیرِاعظم اور فیلڈ مارشل کے درمیان تعلقات اور باہمی احترام ویسے ہی شاندار ہیں جیسے پہلے تھے۔ وزیرِاعظم اور فوجی قیادت کے درمیان سمجھوتے، کام کرنے کا تعلق اور باہمی احترام میں کسی قسم کی تبدیلی نہیں آئی۔
ایک اہم عہدے پر تعینات ذریعے نے بلا جھجک کہا، "یہ تعلقات بہت ہی شاندار ہیں۔” ساتھ ہی ذرائع نے اس قیاس آرائی کو بھی مسترد کیا کہ کسی مبینہ "گرینڈ پلان” کے تحت کسی "ونڈر بوائے” کی ضرورت ہے۔
یہ بحث حالیہ دنوں میں سینئر صحافی اور کالم نگار سہیل وڑائچ کے ایک کالم کے بعد زور پکڑ گئی، جس میں انہوں نے لکھا کہ "اندازہ کہتا ہے کہ گرینڈ پلان میں ایک ونڈر بوائے کی ضرورت محسوس کی جاتی ہے۔ شہباز شریف سونا ہیں مگر اب سونے نہیں، ہیرے کی ضرورت آ پڑی ہے کیونکہ برسوں کے تساہل کو ہیرے جیسا ونڈر بوائے ہی ختم کر سکتا ہے۔”
سہیل وڑائچ کے کالم میں یہ خواہش بھی شامل کی گئی کہ وفاقی کابینہ کے ارکان بنگلا دیش کی طرح پی ایچ ڈی ہوں، اپنے شعبوں پر مکمل اختیار رکھتے ہوں، اور یہ پی ایچ ڈی دنیا کی کسی مستند یونیورسٹی سے حاصل کی گئی ہو۔ کالم کے شائع ہونے کے بعد مرکزی میڈیا اور سوشل میڈیا پر وسیع بحث ہوئی۔
کئی مبصرین کا خیال تھا کہ کالم نگار نے جان بوجھ کر دلائل مبہم رکھے تاکہ طاقتور حلقوں کے براہِ راست ردعمل سے بچا جا سکے۔ تاہم، باخبر ذرائع نے اس تشریح کو سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ اس قیاس آرائی کا کوئی جواز نہیں، اور وزیرِاعظم کے عہدے یا فوجی قیادت کے ساتھ ان کے کام کرنے کے تعلقات کو کمزور کرنے کا کوئی سوال پیدا نہیں ہوتا۔

