امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے خلاف مختلف آپشنز پر غور کر رہا ہے، جن میں فوجی کارروائی بھی شامل ہے۔
فلوریڈا سے واشنگٹن ڈی سی جاتے ہوئے طیارے میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے بتایا کہ وہ ایرانی اپوزیشن رہنماؤں کے ساتھ رابطے میں ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایران کی صورتحال پر امریکا مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے۔
صدر ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ ایران میں انٹرنیٹ کی بحالی کے معاملے پر ارب پتی کاروباری شخصیت ایلون مسک سے بات کریں گے۔ ٹرمپ کے مطابق ایلون مسک اس شعبے کے ماہر ہیں اور ان کی کمپنی اس کام میں بہترین صلاحیت رکھتی ہے۔
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ ایران نے گزشتہ روز جوہری معاہدے پر بات چیت کے لیے رابطہ کیا ہے اور امریکا ایران سے ملاقات پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ ایران کے خلاف تمام ممکنہ آپشنز زیر غور ہیں، جن میں فوجی آپشن بھی شامل ہے۔
امریکی ٹی وی رپورٹس کے مطابق ایران میں جاری مظاہروں کے بعد صدر ٹرمپ کو فوجی آپشنز پر بریفنگ دی گئی، جس میں ایران کی سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کے امکانات پر بھی غور کیا گیا ہے۔
امریکی میڈیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایران کے خلاف سائبر آپریشنز اور نئی پابندیاں عائد کرنے کے آپشنز بھی زیر غور ہیں۔
دوسری جانب ایک امریکی عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ صدر ٹرمپ ایران سے متعلق آپشنز پر غور کے لیے منگل کے روز سینیئر مشیروں سے ملاقات کریں گے۔
ادھر ایران نے اتوار کے روز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو خبردار کیا تھا کہ کسی بھی امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیا جائے گا۔
واضح رہے کہ ایران میں گزشتہ 14 روز سے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں۔ ایرانی انسانی حقوق تنظیم کے مطابق دو ہفتوں سے جاری مظاہروں میں 192 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

