ریاست محض جغرافیے کا نام نہیں ہوتی نہ ہی چند عمارتوں، سڑکوں اور فائلوں کا مجموعہ۔ ریاست دراصل ایک زندہ شعور کا نام ہے جو اپنے شہری کے جسم، ذہن اور روح تینوں کی یکساں نگہداشت کرے۔ وہی ریاست اچھی ریاست کہلاتی ہے جو علاج بھی دے، تعلیم بھی سنوارے اور روحانی سکون کا بندوبست بھی کرے۔ جہاں حکمرانی صرف اقتدار کا نام نہ رہے بلکہ خدمت، ذمہ داری اور احساس کی صورت اختیار کر لے۔
وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے جب سے صوبے کی قیادت سنبھالی ہے پنجاب کی پالیسیوں میں یہی توازن اور یہی ہمہ جہتی نمایاں نظر آتی ہے۔ صحت کے شعبے میں وہ اقدامات کیے گئے جن کا مقصد صرف عمارتیں کھڑی کرنا نہیں بلکہ مریض کو ریلیف دینا تھا۔ سرکاری اسپتالوں میں مفت ادویات، جدید تشخیصی سہولیات، علاج کی بہتری اور مریض کے وقار کا خیال،تعلیم کے میدان میں بھی یہی سنجیدگی دکھائی دی۔ سرکاری اسکولوں میں بچوں کو سہولیات فراہم کی گئیں، تعلیمی ماحول کو بہتر بنایا گیا، بچوں کی غذائی ضروریات کا خیال رکھا گیا، تاکہ غریب اور امیر کے درمیان تعلیمی خلیج کم ہو۔
زراعت جیسے بنیادی شعبے میں کسان کی مشکلات کو سمجھتے ہوئے اقدامات کیے گئے، جدید طریقوں کی طرف رہنمائی کی گئی اور اس شعبے کو دوبارہ معیشت کی ریڑھ کی ہڈی بنانے کی کوشش کی گئی۔یہ سب ایک سوچ کا نتیجہ ہے کہ خدمت ہونی چاہیےاور یہ سب اقدامات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ حکومت پنجاب کسی ایک طبقے یا ایک شعبے تک محدود نہیں رہی بلکہ مجموعی سماجی ڈھانچے کو مضبوط کرنے کی سمت بڑھ رہی ہے۔ مگر ان تمام شعبوں کے درمیان ایک ایسا طبقہ بھی تھا جو برسوں سے خاموشی سے اپنی ذمہ داریاں نبھاتا رہا مگر ریاستی توجہ سے محروم رہا۔
اسلامی معاشرے میں مسجد محض عبادت گاہ نہیں بلکہ تربیت نظم و ضبط اور اجتماعی شعور کا مرکز رہی ہے۔ امام مسجد صرف نماز پڑھانے والا نہیں بلکہ اخلاقی رہنما، سماجی اصلاح کار اور فکری سمت دینے والا کردار رہا ہےتاریخ اسلام میں ائمہ اور مؤذنین کو غیر معمولی عزت اور مقام حاصل رہا ہے۔
حضرت بلال حبشیؓ کی شخصیت اس کی روشن مثال ہے۔ وہ مؤذن جنہیں رسول اکرم ﷺ نے اذان کی ذمہ داری سونپی، اور جن کی زبان سے ادا ہونے والے الفاظ “الصلاۃ خیر من النوم” قیامت تک امتِ مسلمہ کے کانوں میں گونجتے رہیں گے یہ اس بات کا اعلان تھا کہ دین میں خدمتِ اذان اور امامت کوئی معمولی فریضہ نہیں بلکہ انتہائی معزز ذمہ داری ہے افسوس کہ وقت گزرنے کے ساتھ ہمارے معاشرے میں ائمہ مساجد اور مؤذنین کو معاشی اعتبار سے نظر انداز کیا جاتا رہا۔ وہ لوگ جو دن کا آغاز اذان سے اور دن کا اختتام دعا پر کرتے ہیں خود مالی بے یقینی، تنگ دستی اور معاشی دباؤ کا شکار رہے۔ کبھی محلے کے چندے پر گزارا، کبھی قرض،کبھی مجبوری یہ سب اس مقدس خدمت کے شایانِ شان نہیں تھا۔
ایسے میں حکومت پنجاب کی جانب سے “اعزازیہ کارڈ” کا اجرا ایک غیر معمولی، تاریخی اور قابلِ تحسین قدم ہے یہ صرف پچیس ہزار روپے ماہانہ دینے کا اعلان نہیں، بلکہ یہ ایک سوچ کی تبدیلی ہے۔ یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ امام مسجد اور مؤذن ریاست کے نظر انداز شہری نہیں بلکہ سماج کے معمار ہیں۔

پنجاب کی تاریخ میں پہلی بار ائمہ مساجد اور مؤذنین کے لیے ایک باقاعدہ،شفاف اور منظم نظام متعارف کرایا جا رہا ہے۔ بینک آف پنجاب کے ذریعے ادائیگی،اے ٹی ایم کے ذریعے رقم کی وصولی اور مرحلہ وار اجرا،یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ یہ اسکیم وقتی اعلان نہیں بلکہ ایک سنجیدہ ریاستی پالیسی ہے۔
یہ اقدام اس سوچ کا مظہر ہے کہ حکومت صرف انفراسٹرکچر نہیں بناتی بلکہ اقدار کی حفاظت بھی اس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ جب امام مسجد فکرِ معاش سے کسی حد تک آزاد ہوگا تو وہ زیادہ یکسوئی سے معاشرتی اصلاح، اخلاقی تربیت اور دینی رہنمائی کا فریضہ انجام دے سکے گا۔ مسجد کا منبر مضبوط ہوگا تو معاشرہ بھی فکری انتشار سے بچ سکے گا۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا یہ فیصلہ تاریخ کے اوراق میں ایک مثبت حوالہ بن کر محفوظ ہو گا۔ یہ فیصلہ اس بات کا اعلان ہے کہ پنجاب میں اب ریاست صرف جسمانی ضروریات تک محدود نہیں رہی بلکہ روحانی خدمت گزاروں کو بھی عزت اور پہچان دے رہی ہے۔ یہ خیرات نہیں، یہ حق کی واپسی ہے اور شاید یہی اچھی ریاست کی اصل پہچان ہے۔


