امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نمائندہ خصوصی اسٹیو وٹکوف کی شاہِ ایران کے جلاوطن بیٹے رضا پہلوی سے خفیہ ملاقات کا انکشاف سامنے آیا ہے۔
امریکی میڈیا کے مطابق یہ ملاقات ویک اینڈ پر ہوئی، جس میں ایران میں جاری اور حالیہ مظاہروں کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ خبر رساں اداروں کے مطابق ایران میں پُرتشدد مظاہروں کے بعد ایرانی حکومت کی مخالف کسی نمایاں شخصیت اور ٹرمپ انتظامیہ کے درمیان یہ پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل گزشتہ ہفتے صدر ٹرمپ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ رضا پہلوی سے ملاقات کا ارادہ نہیں رکھتے۔ ان کا کہنا تھا کہ پہلوی ایک اچھے انسان معلوم ہوتے ہیں لیکن اس وقت ملاقات مناسب نہیں ہوگی۔
خیال رہے کہ ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری مظاہروں کے دوران رضا پہلوی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ ملک بھر میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کو مزید شدت دیں۔ انسانی حقوق کی ایک تنظیم کے مطابق دو ہفتوں سے جاری ان مظاہروں میں 2403 افراد ہلاک ہوئے، تاہم ایرانی حکومت کا دعویٰ ہے کہ پُرتشدد مظاہروں کا سلسلہ رک گیا ہے، حالات معمول پر آ رہے ہیں اور بین الاقوامی کالز بھی بحال کر دی گئی ہیں۔
رضا پہلوی ایران کے آخری بادشاہ رضا شاہ پہلوی کے بیٹے ہیں اور پیدائش کے بعد سے ہی انہیں ولی عہد کے طور پر دیکھا جاتا رہا۔ 1979 میں انقلاب کے وقت وہ امریکا میں لڑاکا طیارہ اُڑانے کی تربیت حاصل کر رہے تھے، جب ایران میں بادشاہت کا خاتمہ ہوا۔

