مودی کے بھارت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ ہوگیا ہے۔
امریکی ریسرچ گروپ انڈیا ہیٹ لیب (India Hate Lab) نے بھارت میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات پر اپنی تازہ رپورٹ جاری کر دی ہے۔
رپورٹ کے مطابق سال 2025 کے دوران مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف ایک ہزار 318 نفرت انگیز واقعات رپورٹ ہوئے، جو 2024 میں رپورٹ ہونے والے ایک ہزار 165 اور 2023 کے واقعات سے نمایاں طور پر زیادہ ہیں۔
انڈیا ہیٹ لیب کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ تر نفرت انگیز واقعات اُن ریاستوں میں پیش آئے جہاں وزیر اعظم نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) برسراقتدار ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاک بھارت کشیدگی کے دوران 22 اپریل سے 7 مئی کے درمیان سب سے زیادہ، یعنی 100 نفرت انگیز واقعات ریکارڈ کیے گئے۔
رپورٹ میں ایمنسٹی انٹرنیشنل، ہیومن رائٹس واچ اور دیگر بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیموں کے بیانات کا بھی حوالہ دیا گیا ہے، جن میں مودی کی حکمرانی کے دوران اقلیتوں کے خلاف بدسلوکی اور نفرت انگیز کارروائیوں میں اضافے کی نشاندہی کی گئی ہے۔
خبر ایجنسی کے مطابق بین الاقوامی انسانی حقوق تنظیمیں اس سے قبل بھی اس بات کی نشاندہی کر چکی ہیں کہ بھارت میں مودی حکومت کے دور میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف تشدد، امتیازی سلوک اور نفرت انگیز واقعات میں مسلسل اضافہ ہوا ہے۔

