برطانیہ میں سکھ رہنما پرم جیت سنگھ پما کی جان کو بھارتی ریاستی ایجنٹوں سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔
برطانوی میڈیا کے مطابق برطانوی انٹیلیجنس ایجنسیوں نے خالصتانی رہنما پرم جیت سنگھ پما کو بھارتی ریاستی ایجنٹوں سے ممکنہ خطرات سے آگاہ کیا ہے۔ پرم جیت سنگھ پما خالصتان ریفرنڈم مہم کے یوکے اور یورپ کے کوآرڈینیٹر ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پرم جیت سنگھ پما مقتول ہردیپ سنگھ نجر اور خالصتان تحریک کے اہم رہنما گرپتونت سنگھ پنوں کے قریبی ساتھی سمجھے جاتے ہیں۔ یوکے انٹیلیجنس کی جانب سے پما کو خصوصی حفاظتی اقدامات اختیار کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
ذرائع کے مطابق یہ خطرے کی وارننگ برطانیہ کی اعلیٰ انٹیلیجنس ایجنسی ایم آئی فائیو (MI5) نے جاری کی ہے۔ خطرے کی نوعیت اس قدر سنگین ہے کہ پرم جیت سنگھ پما اس وقت ساوتھ آل میں اپنے گھر میں مقیم نہیں ہیں اور انہیں اپنے موجودہ رہائشی مقام کی معلومات کسی کے ساتھ شیئر کرنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دنوں پرم جیت سنگھ پما کی مودی کے حامی افراد کے ساتھ تلخ کلامی بھی ہوئی تھی، جس کے بعد سیکیورٹی خدشات میں مزید اضافہ ہوا۔
برطانوی ہوم آفس کا کہنا ہے کہ برطانیہ میں سکھ برادری معاشرے کی مضبوطی میں اہم کردار ادا کرتی ہے اور سکھ شہریوں کی حفاظت دیگر تمام شہریوں کی طرح حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
مزید انکشاف ہوا ہے کہ سینئر بھارتی سفارتکار سمنت کمار گوئل نے 2015 میں پرم جیت سنگھ پما سے ملاقات کی تھی اور مالی فوائد کے بدلے خالصتان تحریک سے دستبردار ہونے کی پیشکش کی تھی۔ پرم جیت سنگھ پما نے اس ملاقات اور پیشکش سے متعلق برطانوی انٹیلیجنس کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا تھا۔
متعدد بار بھارتی پولیس کے تشدد کا نشانہ بننے والے پرم جیت سنگھ پما نے سن 2000 میں برطانیہ میں سیاسی پناہ حاصل کی تھی۔

