ڈھاکا: بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کی فنانس کمیٹی کے سربراہ نجم الحسین کا کہنا ہے کہ بھارت میں ہونے والے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے کی صورت میں بورڈ کو کسی قسم کا مالی نقصان نہیں ہوگا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے نجم الحسین نے کہا کہ ورلڈکپ میں شرکت کے باوجود بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کو براہِ راست کوئی مالی فائدہ حاصل نہیں ہوتا، اس لیے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں شرکت نہ کرنے سے بورڈ کو نقصان کا سامنا نہیں ہوگا۔ تاہم ان کے مطابق اصل مالی نقصان کھلاڑیوں کو ہوگا کیونکہ انہیں میچ فیس کی مد میں ادائیگی نہیں ملے گی۔
نجم الحسین کا کہنا تھا کہ ورلڈکپ میں عدم شرکت کی صورت میں کھلاڑیوں کو کسی قسم کا مالی ازالہ نہیں کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ خراب کارکردگی کے باوجود بورڈ کھلاڑیوں پر کروڑوں ٹکہ خرچ کرتا ہے، مگر ہم نے کبھی کھلاڑیوں سے یہ نہیں کہا کہ وہ رقم واپس کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بورڈ ہی موجود نہ رہے تو کھلاڑیوں کا مستقبل کیسے محفوظ رہ سکتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ 2027 تک بنگلا دیش کرکٹ بورڈ کے ریونیو پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ 2022 میں آئی سی سی کی فنانس کمیٹی کے اجلاس میں اس حوالے سے فیصلہ ہو چکا تھا۔ تاہم ان کے مطابق مستقبل کے ورلڈکپس، دوطرفہ سیریز اور دیگر بین الاقوامی ایونٹس میں اس فیصلے کے اثرات پڑ سکتے ہیں۔
نجم الحسین نے اس خدشے کا بھی اظہار کیا کہ آئندہ یہ ایک اہم سوال ہوگا کہ آیا دیگر ٹیمیں فیوچر ٹور پروگرام (ایف ٹی پی) کے تحت بنگلا دیش کا دورہ کریں گی یا نہیں۔
واضح رہے کہ بنگلا دیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے دھمکیوں کے بعد انڈین پریمیئر لیگ کی ٹیم کولکتہ نائٹ رائیڈرز نے ریلیز کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد بنگلا دیش کرکٹ بورڈ نے آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے لیے اپنی ٹیم بھارت نہ بھیجنے کا فیصلہ کرتے ہوئے میچز کو بھارت سے کسی دوسرے ملک منتقل کرنے کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

