اسلام آباد: وفاقی وزیر مصدق ملک نے کہا ہے کہ حکومتِ پاکستان کو عالمی مالیاتی منڈیوں سے ڈالر تقریباً 12 فیصد شرحِ سود پر حاصل کرنا پڑتا ہے، جبکہ سابق دورِ حکومت میں صرف 50 افراد کو 4 ارب ڈالر صفر شرحِ سود پر فراہم کر دیے گئے۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ آج سوال کیا جاتا ہے کہ باقی عوام غریب کیوں ہیں، حالانکہ یہی 4 ارب ڈالر نوجوانوں کو دیے جاتے تو ملک میں ہزاروں چھوٹی فیکٹریاں قائم ہو سکتی تھیں اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جا سکتے تھے۔
مصدق ملک کا کہنا تھا کہ پاکستان میں خوشحالی کا راستہ بدقسمتی سے صرف طاقت اور اثرو رسوخ تک رسائی بن چکا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ حقیقی ترقی اسی وقت ممکن ہے جب ہر شہری کو کام کرنے اور آگے بڑھنے کے لیے یکساں مواقع فراہم کیے جائیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ مخصوص طبقے کو سستی بجلی، گیس اور ٹیکس میں چھوٹ دینے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے، کیونکہ اس طرزِ عمل سے معاشی عدم مساوات میں اضافہ ہوتا ہے اور عام شہری مزید پیچھے رہ جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ریاست کو اب کاروبار چلانے کے بجائے سہولت کار کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ان کے مطابق نجکاری کوئی نظریاتی منصوبہ نہیں بلکہ ایک عملی طریقہ ہے جس کے ذریعے مارکیٹ کی خرابیوں کو درست کیا جا سکتا ہے اور معیشت کو درست سمت میں ڈالا جا سکتا ہے۔

