واشنگٹن/تہران/تل ابیب: امریکی ٹی وی نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران پر ممکنہ زور دار حملے کا امکان ظاہر کیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ ایران پر مختصر مگر فیصلہ کن فوجی کارروائی چاہتے ہیں، اور طویل جنگ کی بجائے فوری اثر ڈالنے والی کارروائی پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔
دوسری جانب اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی آرمی چیف نے فوری "دفاعی” تیاریوں کا حکم دے دیا ہے۔ شمالی اسرائیل سمیت مختلف علاقوں میں بم شیلٹر کھول دیے گئے ہیں، اور اسرائیل توقع کر رہا ہے کہ امریکا ایران پر حملے سے قبل وارننگ دے گا۔
خطے میں بڑھتی کشیدگی کے پیش نظر ایران میں سکیورٹی صورتحال کے سبب امریکا کے بعد اسپین، پولینڈ، اٹلی اور دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو فوری طور پر ایران چھوڑنے کی ہدایت کی ہے۔
اٹلی کی وزارتِ خارجہ کے مطابق ایران میں تقریباً 600 اطالوی شہری موجود ہیں، جن میں اکثریت دارالحکومت تہران میں مقیم ہے۔ شہریوں کو ہدایت کی گئی کہ وہ سکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر ایران سے فوراً انخلا کریں۔
پولینڈ کی وزارتِ خارجہ نے بھی سوشل میڈیا پر شہریوں سے کہا ہے کہ وہ فوری طور پر ایران چھوڑیں۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق برطانیہ نے ایران سے اپنے تمام سفارتی عملے کو نکال لیا ہے جبکہ برطانوی سفیر کو بھی واپس بلا لیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، جرمن ائیرلائن نے اسرائیل کے لیے رات کی پروازیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے، جو 19 جنوری تک بند رہیں گی۔

