ملک بھر میں رحمتوں، برکتوں اور بخشش کی عظیم رات شبِ معراج انتہائی عقیدت و احترام کے ساتھ منائی گئی۔ اس بابرکت موقع پر مساجد، خانقاہوں اور عبادت گاہوں میں خصوصی روحانی محافل کا اہتمام کیا گیا، جہاں ایمان افروز مناظر دیکھنے میں آئے۔
شبِ معراج کے موقع پر ملک کے مختلف حصوں میں مساجد کو چراغاں کیا گیا، جب کہ علمائے کرام اور مشائخ عظام کی جانب سے خصوصی محافلِ ذکر و نعت کا انعقاد کیا گیا۔ درود و سلام، نعت خوانی اور تلاوتِ قرآن مجید کی محافل میں عاشقانِ رسول ﷺ نے بڑھ چڑھ کر شرکت کی۔ اس دوران نوافل ادا کیے گئے اور اللہ تعالیٰ کے حضور گڑگڑا کر دعائیں مانگی گئیں۔
علمائے کرام نے اپنے خطابات میں واقعۂ معراج کی روحانی اہمیت، اس کے پیغامات اور امتِ مسلمہ کے لیے اسباق پر تفصیلی روشنی ڈالی۔ انہوں نے بتایا کہ شبِ معراج وہ عظیم رات ہے جب اللہ رب العزت نے اپنے محبوب اور آخری نبی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو معراج کا بے مثال شرف عطا فرمایا اور امتِ محمدیہ ﷺ کو پانچ وقت کی نماز کا عظیم تحفہ دیا۔
علمائے کرام کا کہنا تھا کہ معراج کا واقعہ ایمان کو تازہ کرنے اور اللہ تعالیٰ سے تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ ہے۔ اس رات حضور اکرم ﷺ نے مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر طے فرمایا، جہاں تمام انبیائے کرام نے آپ ﷺ کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ اس کے بعد آپ ﷺ کو آسمانوں کی سیر کرائی گئی اور اللہ تعالیٰ سے خصوصی قرب و ملاقات کا شرف حاصل ہوا۔
بیان کیا گیا کہ سفرِ معراج کے دوران رسولِ کریم ﷺ کو جنت اور دوزخ کے مناظر بھی دکھائے گئے، جب کہ مختلف انبیائے کرام سے ملاقاتیں بھی ہوئیں۔ اسی مبارک سفر کے دوران امتِ مسلمہ پر نماز فرض کی گئی، جو دینِ اسلام کا بنیادی ستون ہے۔ یہی وجہ ہے کہ شبِ معراج کو خصوصی عبادات اور ذکر و اذکار کے ساتھ منایا جاتا ہے۔
علمائے کرام نے اس بات پر زور دیا کہ شبِ معراج ہمیں نماز کی پابندی، صبر، تقویٰ اور اللہ تعالیٰ پر کامل یقین کا درس دیتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہم معراج کے پیغام کو اپنی عملی زندگی کا حصہ بنا لیں تو انفرادی اور اجتماعی مسائل پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
محافل کے اختتام پر ملک و قوم کی ترقی، سلامتی، استحکام، عالمِ اسلام کے اتحاد اور مظلوم مسلمانوں کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ علما نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ پاکستان کو امن و خوشحالی کا گہوارہ بنائے اور امتِ مسلمہ کو درپیش مشکلات آسان فرمائے۔
شبِ معراج کی بابرکت ساعتوں میں فضا روحانیت سے معمور رہی اور ہر طرف ذکرِ الٰہی اور درود و سلام کی صدائیں بلند ہوتی رہیں، جس سے ایمان افروز ماحول قائم رہا۔

