روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کو ایران کے معاملے پر ثالثی کی پیشکش کر دی ہے، جسے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کم کرنے کی ایک اہم سفارتی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔
کریملن کے ترجمان کے مطابق روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے ایران کے صدر مسعود پزشکیان اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو سے الگ الگ ٹیلی فونک گفتگو کی۔ ان رابطوں کے دوران مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی صورتِ حال اور ایران سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ صدر پیوٹن نے اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو سے گفتگو میں ایران اور مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی پر بات کرتے ہوئے روس کی جانب سے ثالثی کا کردار ادا کرنے کی پیشکش کی۔ روسی صدر نے اس بات پر زور دیا کہ موجودہ حالات میں سفارتی مکالمہ اور تحمل ہی خطے کے امن و استحکام کے لیے واحد مؤثر راستہ ہے۔
کریملن کے مطابق صدر پیوٹن نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ روس مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں کمی اور تنازعات کے سیاسی حل کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا، تاکہ خطے کو کسی بڑے تصادم سے بچایا جا سکے۔
مبصرین کے مطابق روس کی یہ سفارتی پیشکش ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تناؤ خطے کے امن کے لیے ایک سنگین خطرہ بنتا جا رہا ہے، اور عالمی طاقتیں صورتِ حال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

