ایران نے جی سیون ممالک کے بیان کو مداخلت قرار دے دیا
تہران: ایرانی وزارت خارجہ نے جی سیون ممالک کے حالیہ بیان کو ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حالیہ احتجاج اور تشدد میں اسرائیل کے کردار کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
وزارت خارجہ کے مطابق ایران میں 8 تا 10 جنوری کے دوران مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں پر حملے کیے گئے، اور صیہونی حمایت یافتہ عناصر نے پرامن احتجاج کو پرتشدد بنایا۔ ایرانی وزارت خارجہ نے امریکی اور اسرائیلی حکام کے بیانات کو تشدد پر اکسانے کا ثبوت قرار دیا۔
ایران نے زور دیا کہ وہ پرامن احتجاج کے حق کا احترام کرتا ہے اور آئین کے تحت شہری حقوق کی پاسداری کرتا ہے۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ ریاست شہریوں کے تحفظ اور امن و امان برقرار رکھنے کی مکمل ذمہ داری نبھائے گی اور بیرونی سرپرستی میں دہشتگردی کے خلاف قومی سلامتی کا دفاع کرے گی۔
ایرانی وزارت خارجہ نے جی سیون ممالک پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ انسانی حقوق کے نام پر امریکی قیادت میں دوہرا معیار بے نقاب ہو گیا ہے، اور جی سیون خود انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مرتکب رہے ہیں۔ مزید کہا گیا کہ فلسطینی عوام کی نسل کشی میں جی سیون ممالک اسرائیل کے ساتھ براہ راست شریک ہیں اور انہیں کسی کو انسانی حقوق کا لیکچر دینے کا اخلاقی جواز نہیں۔
ایران نے مطالبہ کیا کہ جی سیون ممالک ایران کے داخلی معاملات میں غیر قانونی مداخلت بند کریں، پابندیاں ختم کریں اور انسانی حقوق کو سیاسی ہتھیار نہ بنائیں۔ وزارت خارجہ نے کہا کہ انسانی حقوق کے نام پر تشدد اور دہشتگردی کی حوصلہ افزائی ناقابل قبول ہے۔

