پاکستان کا بھارتی اقدامات پر شدید ردعمل: مذہبی آزادی کی خلاف ورزی
اسلام آباد: وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بھارتی اقدامات مذہبی امور میں کھلی مداخلت کے مترادف ہیں اور یہ مذہبی آزادی اور عقیدے کے بنیادی حق کی سنگین خلاف ورزی ہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس کا مقصد مقبوضہ جموں و کشمیر کی مسلم آبادی کو خوفزدہ کرنا اور انہیں تنہائی میں دھکیلنا ہے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ مذہبی شخصیات سے زبردستی ذاتی کوائف، تصاویر اور مسلکی وابستگیوں کی تفصیلات اکٹھی کرنا منظم ہراسانی کے زمرے میں آتا ہے، جس کا مقصد نمازیوں میں خوف پھیلانا اور انہیں آزادانہ طور پر اپنے مذہب پر عمل کرنے سے روکنا ہے۔
دفتر خارجہ کے مطابق یہ اقدامات بھارتی حکومت کی ہندوتوا نظریے اور اسلاموفوبیا پر مبنی پالیسیوں کا حصہ ہیں، اور مساجد اور مسلم علما کو نشانہ بنانا ان پالیسیوں کے فرقہ وارانہ اور امتیازی کردار کا واضح ثبوت ہے۔
وزارت خارجہ نے زور دیا کہ جموں و کشمیر کے عوام کو بغیر خوف، جبر یا امتیاز کے اپنے مذہب پر عمل کرنے کا ناقابلِ تنسیخ حق حاصل ہے۔ پاکستان یکجہتی کا اظہار جاری رکھے گا اور کشمیریوں کے خلاف مذہبی جبر اور عدم برداشت کی تمام صورتوں کے خلاف اپنی آواز بلند کرتا رہے گا۔

