ایران کی چابہار بندرگاہ سے علیحدگی پر بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو اپنے ہی ملک میں شدید تنقید کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے، جہاں اپوزیشن جماعت کانگریس پارٹی نے حکومت کے فیصلے کو خارجہ پالیسی کی ناکامی قرار دے دیا ہے۔
اس معاملے پر کانگریس پارٹی نے نریندر مودی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ایک ویڈیو جاری کی، جس میں واضح طور پر لکھا گیا کہ ’’نریندر مودی نے ایک بار پھر ٹرمپ کے آگے سرینڈر کر دیا‘‘۔ ویڈیو میں الزام عائد کیا گیا کہ مودی حکومت نے قومی مفادات کے بجائے امریکی دباؤ کے آگے جھکنے کو ترجیح دی۔
کانگریس پارٹی کی جانب سے مزید کہا گیا کہ چابہار بندرگاہ کے معاہدے کو حکومت نے ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر پیش کیا تھا، تاہم اب اسی معاہدے کے تحت بندرگاہ کا کنٹرول چھوڑنے پر مودی حکومت مکمل خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔ اپوزیشن کے مطابق یہ خاموشی اس بات کا ثبوت ہے کہ مودی حکومت امریکی دباؤ کے سامنے جھک گئی اور اس فیصلے سے بھارت کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
دوسری جانب امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت کو ایک اور بڑا سفارتی اور معاشی دھچکا لگا ہے، جس کے نتیجے میں بھارت نے ایران کی چابہار بندرگاہ سے عملی طور پر علیحدگی اختیار کر لی ہے۔
واضح رہے کہ سال 2024 میں بھارت نے ایران کے ساتھ معاہدے کے تحت 10 سال کے لیے چابہار بندرگاہ کے انتظامی امور سنبھالے تھے، جسے خطے میں تجارتی اور اسٹریٹجک لحاظ سے انتہائی اہم پیش رفت قرار دیا گیا تھا۔
امریکی پابندیوں کے دوبارہ نفاذ کے بعد بھارت نے معاہدے کے تحت ایران کو طے شدہ 120 ملین ڈالر کی رقم پابندیاں لاگو ہونے سے قبل ادا کر دی، جس کے بعد اب ایران اس سرمائے کو بھارت کی شمولیت کے بغیر بندرگاہ کی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق چابہار بندرگاہ سے علیحدگی بھارت کی خارجہ پالیسی کے لیے ایک بڑا سوالیہ نشان بن گئی ہے، جبکہ اپوزیشن اسے مودی حکومت کی کمزور سفارت کاری اور امریکی دباؤ کے سامنے پسپائی قرار دے رہی ہے۔

