اپوزیشن اتحاد تحریک تحفظ آئین پاکستان کے رہنما اور قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر محمود خان اچکزئی نے کہا ہے کہ آئین ایک وعدہ ہے، اگر اس وعدے کو توڑا گیا تو رشتے خراب ہوں گے اور اس کے نتائج پورے نظام پر پڑیں گے۔
جامشورو میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے محمود خان اچکزئی کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی کی ملاقاتوں پر پابندی غیرانسانی عمل ہے، جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے کو دبانے کے بجائے برداشت کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں حقیقی جمہوریت کے لیے حکمرانی میں تمام قوموں کو حصہ دینا اور تمام زبانوں کا احترام کرنا ناگزیر ہے۔
اپوزیشن لیڈر نے مطالبہ کیا کہ ملک کی خارجہ پالیسی پارلیمنٹ کو بنانی چاہیے کیونکہ منتخب ایوان ہی عوام کی اصل نمائندگی کرتا ہے۔ انہوں نے خطے کی موجودہ صورتحال پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تمام سیاسی قوتوں کو اعتماد میں لینے کے لیے ایک جامع گول میز کانفرنس بلائی جائے تاکہ قومی سطح پر اتفاق رائے پیدا کیا جا سکے۔
محمود خان اچکزئی نے ایک بار پھر اس بات پر زور دیا کہ آئین محض ایک کتاب نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک مقدس وعدہ ہے، اگر اس وعدے کی خلاف ورزی کی گئی تو نہ صرف سیاسی بلکہ معاشرتی رشتے بھی متاثر ہوں گے۔
بعد ازاں حیدرآباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر نے کہا کہ نظام میں موجود کھوٹے سکوں کو ہٹانے کے لیے ایک منظم تحریک چلانا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کا نظام برا نہیں ہے، مسئلہ یہ ہے کہ اسے درست طریقے سے چلانا نہیں چاہتے، اگر نیت درست ہو تو سب کچھ ممکن ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اگر ملک کو چلانے کے لیے تمام قوموں اور طبقات کو مساوی حصہ دیا جائے تو یہ ملک بخوبی چل سکتا ہے۔ محمود خان اچکزئی نے تجویز دی کہ تین دن پر مشتمل گول میز کانفرنس منعقد کی جائے، جس میں سب کی بات سنی جائے اور مل کر ملک کو درست سمت میں آگے بڑھایا جائے۔
انہوں نے واضح کیا کہ ان کی سیاست گالی گلوچ پر مبنی نہیں، وہ کسی کو گالی نہیں دیں گے بلکہ اصولی سیاست پر یقین رکھتے ہیں۔ محمود خان اچکزئی نے کہا کہ نواز شریف اور آصف زرداری کے ساتھ ان کا چند کپ چائے کے علاوہ کوئی ذاتی لین دین یا ادھار نہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب نواز شریف اور آصف زرداری آئیں گے تو وہ انہیں خوش دلی سے چائے پلائیں گے۔

