اسلام آباد: امریکا اور پاکستان نے دوطرفہ سکیورٹی تعاون اور بارڈر مینجمنٹ کے شعبوں میں اشتراک مزید بڑھانے پر اتفاق کرتے ہوئے بارڈر سکیورٹی، کوسٹل گارڈز اور دیگر متعلقہ اداروں کو جدید امریکی آلات سے لیس کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔
ہفتے کے روز وزیر داخلہ محسن نقوی سے امریکی سفیر نیٹلی بیکر کی سربراہی میں اعلیٰ سطح امریکی وفد نے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران پاک امریکا تعلقات، دوطرفہ تعاون اور مشترکہ مفادات کے مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں دوطرفہ سکیورٹی تعاون اور بارڈر مینجمنٹ کے ضمن میں اشتراک کو مزید مضبوط بنانے پر اتفاق کیا گیا، جبکہ امریکی ادارے اینٹی ٹیررسٹ اسسٹنس پروگرام کے ساتھ جاری تعاون کو وسعت دینے کے عزم کا بھی اظہار کیا گیا۔
اس کے علاوہ بیورو آف انٹرنیشنل نارکوٹکس اینڈ لاء انفورسمنٹ کے ساتھ جاری تعاون کو مزید مؤثر بنانے پر بھی اتفاق ہوا۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں ہر سطح پر پاک امریکا تعاون مضبوط بنانے کے لیے کوآرڈینیشن کے نظام کو بہتر بنانے کا فیصلہ کیا۔
ملاقات کے دوران ایف آئی اے، فیڈرل کانسٹیبلری اور سائبر کرائم ایجنسی کے افسران کے لیے تربیتی پروگرامز پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ امریکا کے تعاون سے ایف آئی اے میں سینٹر فار ٹرانس نیشنل کرائم اور اکیڈمی کے قیام کے معاملات پر بھی بات چیت کی گئی، تاکہ تحقیقاتی اور تفتیشی صلاحیتوں کو جدید تقاضوں کے مطابق بہتر بنایا جا سکے۔
ملاقات میں بارڈر سکیورٹی، کوسٹل گارڈز اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو جدید امریکی آلات فراہم کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا، جس کا مقصد سرحدی نگرانی، سمگلنگ کی روک تھام اور قومی سلامتی کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی نے کہا کہ بیرون ملک جرائم میں ملوث افراد کی نشاندہی جدید سافٹ ویئر کے ذریعے کی جائے گی، جس سے بین الاقوامی جرائم کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی اور مؤثریت آئے گی۔

