میئر کراچی مرتضیٰ وہاب ریسکیو آپریشن کی نگرانی کے لیے رات گئے آتش زدہ عمارت گل پلازہ پہنچے، جہاں انہوں نے ریسکیو حکام کو لاپتہ افراد کی تلاش کا عمل مزید تیز کرنے کی ہدایت کی۔
میئر کراچی نے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی کہ اب تک 20 کے قریب لاشوں کی شناخت ہو چکی ہے، جبکہ مختلف ادارے ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام متعلقہ محکمے الرٹ ہیں اور گل پلازہ کی چھت پر موجود گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں نکالنے کا کام مسلسل جاری ہے۔
مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ ابتدائی معلومات کے مطابق تقریباً 80 افراد لاپتہ ہیں، جن کی تلاش کا عمل جاری ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جب تک تمام لاپتہ افراد کو تلاش نہیں کر لیا جاتا، ریسکیو آپریشن بند نہیں کیا جائے گا۔ میئر کراچی نے اس بات پر بھی زور دیا کہ گل پلازہ میں اضافی دکانیں کیوں بنائی گئیں، اس معاملے کی مکمل تحقیقات کی جائیں گی اور ذمہ داروں کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
ادھر پروگرام ’’آج شاہ زیب خانزادہ کے ساتھ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے میئر کراچی مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سانحہ گل پلازہ کے حوالے سے سندھ حکومت نے تین بڑے فیصلے کیے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کمشنر کراچی کی سربراہی میں انکوائری کمیٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جو واقعے کی وجوہات، کوتاہیوں اور ذمہ داروں کا تعین کرے گی۔
میئر کراچی کے مطابق جاں بحق افراد کے لواحقین کو ایک، ایک کروڑ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے، جبکہ متاثرہ تاجروں کے مالی نقصان کے ازالے کے لیے بھی ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی جا رہی ہے جو نقصانات کا تخمینہ لگا کر سفارشات مرتب کرے گی۔
مرتضیٰ وہاب نے مزید بتایا کہ راشد منہاس روڈ پر عمارت میں آگ لگنے کے واقعے کے بعد کراچی بھر میں 600 سے زائد عمارتوں کا فائر سیفٹی آڈٹ کرایا گیا، جس کی تفصیلی رپورٹ وزیر اعلیٰ سندھ کے ساتھ شیئر کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان آڈٹس کا مقصد مستقبل میں ایسے سانحات کی روک تھام کو یقینی بنانا ہے۔
میئر کراچی نے انکشاف کیا کہ گل پلازہ کی تعمیر کا نقشہ 1998 میں منظور ہوا تھا، تاہم بعد ازاں اس میں متعدد بے ضابطگیاں کی گئیں۔ انہوں نے کہا کہ جب انتظامیہ غیر قانونی تعمیرات اور خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کرتی ہے تو اس پر الزام تراشیاں شروع ہو جاتی ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ جب تک قوانین پر عملدرآمد اور ذمہ داروں کو سزائیں نہیں دی جائیں گی، ایسے سانحات کا سلسلہ نہیں رکے گا۔
میئر کراچی کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت اس سانحے کو ایک مثال بنانا چاہتی ہے تاکہ مستقبل میں کسی بھی عمارت میں انسانی جانوں سے کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے اور فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عمل کرایا جا سکے۔

