کراچی کی آتش زدہ عمارت گل پلازہ کی چھت سے 7 گاڑیاں اتار لی گئیں۔
گل پلازہ میں آگ بجھنے کے بعد ریسکیو اور سرچ آپریشن بدستور جاری ہے، جبکہ پلازہ کی چھت سے گاڑیاں اتارنے کا عمل بھی مسلسل جاری رکھا گیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق آپریشن کے دوران گل پلازہ کی چھت سے مجموعی طور پر 7 گاڑیاں اتاری جا چکی ہیں، جن میں سے 2 گاڑیاں محفوظ حالت میں ان کے مالکان کے حوالے کر دی گئی ہیں، جبکہ باقی گاڑیوں کی حالت کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
تاجر عامر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گل پلازہ کی چھت پر متعدد گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں پارک تھیں، تاہم حیران کن طور پر ان کی دونوں گاڑیاں مکمل طور پر محفوظ حالت میں ملیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ان کی دکان پر کام کرنے والے 2 افراد تاحال لاپتا ہیں، جن کے بارے میں کوئی مصدقہ اطلاع موصول نہیں ہو سکی۔
ادھر تاجر رہنما جمیل پراچہ نے ریسکیو آپریشن کی رفتار پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گل پلازہ میں سرچ اور ریسکیو کا کام انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کے باعث لاپتہ افراد کے اہل خانہ شدید ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں اور مسلسل انتظار کر رہے ہیں۔
جمیل پراچہ نے الٹی میٹم دیتے ہوئے کہا کہ اگر دوپہر 2 سے 3 بجے تک لاپتہ افراد کو تلاش نہ کیا گیا تو تاجر اور متاثرہ افراد خود عمارت کے اندر جا کر تلاش شروع کرنے پر مجبور ہوں گے، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں پر عائد ہو گی۔
دوسری جانب جلی ہوئی عمارت میں پھنسے شہریوں کے اہل خانہ نے ریسکیو آپریشن میں تاخیر پر شدید احتجاج کیا اور مطالبہ کیا کہ جدید آلات اور اضافی نفری کے ساتھ فوری طور پر سرچ آپریشن تیز کیا جائے تاکہ لاپتہ افراد کو جلد از جلد نکالا جا سکے۔
اہل خانہ کا کہنا ہے کہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود انہیں اپنے پیاروں کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں، جس سے ان کی تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ متاثرہ خاندانوں نے حکومت اور متعلقہ اداروں سے فوری اور مؤثر کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔
ریسکیو حکام کے مطابق عمارت کے اندر درجہ حرارت اب بھی زیادہ ہے اور بعض حصوں میں ملبہ گرنے کا خطرہ موجود ہے، جس کے باعث آپریشن انتہائی احتیاط کے ساتھ کیا جا رہا ہے۔ تاہم حکام نے یقین دہانی کرائی ہے کہ سرچ آپریشن اس وقت تک جاری رہے گا جب تک تمام لاپتہ افراد کے بارے میں مکمل معلومات حاصل نہ ہو جائیں۔

