اسلام آباد: سینیٹ نے تولیدی صحت کو تعلیمی نصاب کا حصہ بنانے کا بل منظور کر لیا ہے، جس کے تحت 14 سال یا اس سے زائد عمر کے بچوں کو تولیدی صحت سے متعلق تعلیم فراہم کی جائے گی۔
منظور شدہ بل کے مطابق تولیدی صحت کی تعلیم میں جسمانی، ذہنی اور سماجی بہبود سے متعلق بنیادی آگاہی شامل ہوگی، تاکہ طلبہ کو اپنی صحت، جسمانی تبدیلیوں اور سماجی ذمہ داریوں سے متعلق مناسب اور عمر کے مطابق معلومات فراہم کی جا سکیں۔
بل میں واضح کیا گیا ہے کہ تولیدی صحت سے متعلق کسی بھی قسم کی تعلیم یا ہدایات دینے سے قبل والدین کی تحریری رضامندی حاصل کرنا لازمی ہوگا، تاکہ والدین کو نصاب کے مواد اور نوعیت سے مکمل طور پر آگاہ رکھا جا سکے اور ان کی رائے کو بھی شامل کیا جا سکے۔
قانون کے مطابق ٹیکسٹ بکس کی تیاری کے دوران متعلقہ اتھارٹی اس بات کو یقینی بنائے گی کہ تولیدی صحت سے متعلق مواد طلبہ کی عمر، ذہنی سطح اور سماجی اقدار کے مطابق ہو، تاکہ نصاب میں شامل معلومات تعلیمی اور اخلاقی دائرے میں رہیں۔
واضح رہے کہ اس بل پر سینیٹ کی قائمہ کمیٹی میں پہلے اختلافِ رائے بھی سامنے آیا تھا، تاہم بحث و مباحثے کے بعد بل کو ایوان بالا سے منظور کر لیا گیا ہے۔ حکومتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اس قانون سازی کا مقصد نوجوانوں میں صحت سے متعلق شعور اجاگر کرنا اور انہیں درست معلومات فراہم کرنا ہے، تاکہ غلط فہمیوں اور صحت کے مسائل سے بچا جا سکے۔

