کراچی: سانحہ گل پلازہ میں لاپتا افراد کی شناخت کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا عمل جاری ہے، جس کے تحت لاپتا افراد کے رشتے داروں سے خون کے نمونے لیے جا رہے ہیں۔
کراچی کے سول اسپتال میں لاپتا افراد کے اہل خانہ سے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے خون کے نمونے حاصل کیے جا رہے ہیں، جن کی مدد سے آتش زدگی میں جاں بحق ہونے والے افراد کی لاشوں کی شناخت کی جائے گی۔ حکام کے مطابق یہ عمل مرحلہ وار مکمل کیا جا رہا ہے تاکہ درست اور مصدقہ شناخت ممکن بنائی جا سکے۔
دوسری جانب سول اسپتال کے مردہ خانے کے باہر ایک خصوصی انفارمیشن ڈیسک قائم کر دیا گیا ہے، جہاں لاپتا افراد سے متعلق معلومات اکٹھی کی جا رہی ہیں۔ انفارمیشن ڈیسک پر لاپتا شخص کی جسامت، لباس، عمر، پیدائشی نشانیوں اور دیگر شناختی علامات سے متعلق تفصیلات درج کی جا رہی ہیں تاکہ شناخت کے عمل میں آسانی ہو۔
سی پی ایل سی (شناخت) کے پراجیکٹ ہیڈ عامر حسن نے جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ لاشوں کا پوسٹ مارٹم کا عمل جاری ہے، جبکہ لاپتا افراد کے اہل خانہ کی جانب سے جمع کرائے گئے ڈی این اے سیمپلز بھی لیبارٹری بھجوائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ متاثرہ شخص کے اہل خانہ سے 3 سے 4 صفحات پر مشتمل سوالنامے کے ذریعے تفصیلی معلومات حاصل کی جاتی ہیں۔
عامر حسن کے مطابق متاثرہ شخص کا ڈیٹا پوسٹ مارٹم رپورٹس کے ساتھ کراس میچ کیا جاتا ہے اور ڈی این اے ٹیسٹ کا مرحلہ مکمل ہونے کے بعد ہی کسی حتمی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ ایک حساس اور وقت طلب عمل ہے جس میں مکمل احتیاط برتی جا رہی ہے۔
پولیس سرجن ڈاکٹر سمعیہ طارق کے مطابق اب تک 20 لاشوں کے ڈی این اے نمونے حاصل کیے جا چکے ہیں، جبکہ 48 خاندانوں نے اپنے ڈی این اے سیمپلز جمع کرا دیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جیسے جیسے مزید اہل خانہ سامنے آ رہے ہیں، نمونوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔
ڈی آئی جی ساؤتھ اسد رضا نے بتایا کہ تمام حاصل کیے گئے نمونے ڈی این اے ٹیسٹ کے لیے سندھ فارنزک ڈی این اے اینڈ سیرو لوجی لیبارٹری بھیجے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ آئندہ 3 دنوں تک ڈی این اے کراس میچنگ کا عمل جاری رہے گا، جس کے بعد شناخت کے حوالے سے مزید پیش رفت سامنے آئے گی۔
حکام کے مطابق ڈی این اے رپورٹ آنے کے بعد جاں بحق افراد کی شناخت مکمل کی جائے گی اور لاشیں قانونی کارروائی کے بعد اہل خانہ کے حوالے کی جائیں گی۔

