پشاور: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ افغانستان پُرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں، اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا۔
خیبرپختونخوا میں سکیورٹی ورکشاپ کے شرکا سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ صوبے نے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں دی ہیں اور حکومت خیبرپختونخوا میں امن و امان کی صورتحال مزید بہتر بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ صوبے میں پائیدار امن کا قیام ناگزیر ہو چکا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ قومی سلامتی حکومت کی اولین ترجیح ہے، اس لیے داخلی و خارجی سکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے جامع حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ انہوں نے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو قابل تحسین قرار دیتے ہوئے کہا کہ دہشتگردی کے ناسور کو جڑ سے ختم کرنے کے لیے ریاست پُرعزم ہے اور سب کو متحد ہو کر دہشتگردی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگر پنجاب ترقی کرتا ہے اور دیگر صوبے ترقی نہیں کرتے تو یہ پاکستان کی ترقی نہیں ہو گی، ملک اسی وقت ترقی کرے گا جب تمام صوبے ترقی کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ بلوچستان کو 100 ارب روپے پنجاب نے اپنے حصے سے دیے، بلوچستان کی اہم سڑک بنانے کے لیے وفاق پیسے دے رہا ہے، جبکہ بلوچستان میں سولر ٹیوب ویلز کے لیے وفاق نے 40 ارب روپے فراہم کیے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ دیگر صوبوں نے خیبرپختونخوا میں دہشتگردی سے نمٹنے کے لیے اپنے حصے سے 800 ارب روپے دیے، اور صوبے کے عوام نے ریفرنڈم میں پاکستان کے حق میں ووٹ دیا۔
وزیراعظم نے فیلڈ مارشل کی قیادت میں بھارت کے خلاف جنگ میں حاصل کامیابی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال بھارت کے سات جہاز مار گرائے گئے اور آج سبز پاسپورٹ کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان معاشی طور پر مضبوط ہو رہا ہے، جس کی بدولت ملک کا وقار دنیا بھر میں بلند ہوا ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے 40 لاکھ افغان مہمانوں کی میزبانی کی ہے، اور اب یہ دیکھنا ہوگا کہ افغانستان پُرامن طور پر رہنا چاہتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے افغان عبوری حکومت سے کہا کہ وہ اپنے عوام پر رحم کرے اور نوجوانوں کو شدت پسندی سے بچا کر مثبت سمت میں رہنمائی فراہم کرے، جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔
آخر میں وزیراعظم نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا کو فون کر کے عہدہ سنبھالنے پر مبارکباد دی، جس پر وزیراعلیٰ نے شکریہ ادا کیا۔

