ڈیرہ اسماعیل خان میں ہونے والے خودکش دھماکے کے حملہ آور کی شناخت کر لی گئی ہے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے واقعے کا مقدمہ درج کر لیا ہے، جس میں دہشت گردی سمیت دیگر سنگین دفعات شامل کی گئی ہیں۔
سی ٹی ڈی کے مطابق یہ خودکش دھماکا ڈیرہ اسماعیل خان میں امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر پر پیش آیا، جہاں گزشتہ رات شادی کی تقریب جاری تھی۔ دھماکا مہمانوں کے کمرے میں کیا گیا، جس کے نتیجے میں موقع پر موجود افراد شدید متاثر ہوئے۔
مقدمے کے متن میں بتایا گیا ہے کہ خودکش دھماکے کے نتیجے میں 6 افراد شہید ہوئے، جب کہ متعدد افراد زخمی بھی ہوئے۔ واقعے کے بعد علاقے میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا اور سکیورٹی فورسز نے فوری طور پر علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔
ایف آئی آر کے مطابق خودکش حملہ آور کی شناخت عبدالرحمان کے نام سے ہوئی ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ حملہ آور کی پرورش افغان مہاجر کیمپ میں ہوئی، جہاں اس نے ابتدائی تعلیم غیر رسمی تعلیمی مراکز اور ایک مدرسے میں حاصل کی۔ تفتیشی اداروں کے مطابق کم عمری کے دوران ہی وہ انتہاپسندانہ سوچ اور شدت پسند پروپیگنڈے کا شکار ہو گیا تھا۔
سی ٹی ڈی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حملہ آور نے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت امن کمیٹی کے سربراہ نور عالم محسود کے گھر کو نشانہ بنایا۔ واقعے کے فوری بعد تفتیشی ٹیم نے جائے وقوعہ سے ڈی این اے سیمپلز اور دیگر اہم فارنزک شواہد اکٹھے کر لیے ہیں، جن کی مدد سے واقعے کے پس پردہ نیٹ ورک اور سہولت کاروں تک پہنچنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس خودکش حملے کے تانے بانے شدت پسند عناصر اور ممکنہ طور پر سرحد پار روابط سے بھی جوڑے جا رہے ہیں، جب کہ تحقیقات کے تمام پہلوؤں سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ سکیورٹی اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ واقعے میں ملوث عناصر کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
واقعے کے بعد ڈیرہ اسماعیل خان میں سکیورٹی مزید سخت کر دی گئی ہے، جب کہ عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ مشکوک سرگرمیوں کی فوری اطلاع قانون نافذ کرنے والے اداروں کو دیں۔

