امریکا میں شدید برفانی طوفان کا سلسلہ بدستور جاری ہے جس کے باعث مختلف حادثات میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 38 ہوگئی ہے۔ واشنگٹن، نیویارک سمیت درجنوں ریاستیں یخ بستہ ہواؤں، بارش اور موسلا دھار برفباری کی لپیٹ میں ہیں، جہاں معمولاتِ زندگی شدید متاثر ہو چکے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق شدید برفباری اور پھسلن کے باعث پیش آنے والے ٹریفک حادثات، سردی سے متعلق طبی پیچیدگیوں اور دیگر واقعات میں اب تک 38 افراد جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ صرف نیویارک میں 10 اموات رپورٹ کی گئی ہیں، جب کہ دیگر ریاستوں میں بھی ہلاکتوں کی اطلاعات موصول ہو رہی ہیں۔
واشنگٹن ڈی سی اور دیگر متاثرہ علاقوں میں سڑکیں، عمارتیں اور پارک مکمل طور پر برف سے ڈھک گئے ہیں۔ خراب موسم کے باعث وفاقی دفاتر دوسرے روز بھی بند رہے، جس سے سرکاری امور بری طرح متاثر ہوئے۔ فضائی آمد و رفت بھی شدید متاثر ہے اور صرف دو روز کے دوران 16 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ کر دی گئیں۔
شدید موسم کی وجہ سے بجلی کا نظام بھی درہم برہم ہو گیا ہے۔ مختلف ریاستوں میں ساڑھے پانچ لاکھ سے زائد صارفین بجلی سے محروم ہیں، جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ امدادی ادارے بجلی کی بحالی کے لیے کام کر رہے ہیں، تاہم خراب موسم رکاوٹ بنا ہوا ہے۔
شمالی ریاستوں میں درجہ حرارت ریکارڈ سطح تک گر گیا ہے۔ امریکی میڈیا کے مطابق یکم فروری تک درجہ حرارت نقطہ انجماد سے نیچے رہنے کا امکان ہے، جس کے باعث مزید برفباری اور سردی کی شدت میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ حکام نے شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔
ادھر کینیڈا میں بھی شدید برفباری کا سلسلہ جاری ہے۔ ٹورنٹو اور اونٹاریو کے جنوبی علاقے برف کی موٹی تہہ میں ڈھک گئے ہیں، جس کے باعث تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے ہیں۔ خراب موسم کے باعث ہزاروں پروازیں منسوخ ہو چکی ہیں اور شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔
حکام کے مطابق اگر موسم کی شدت برقرار رہی تو آئندہ دنوں میں مزید مشکلات کا سامنا ہو سکتا ہے، جبکہ ریسکیو اور ایمرجنسی ادارے ہائی الرٹ پر ہیں۔

