امریکی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کے مجوزہ ڈھانچے میں اصل اختیار اور طاقت کا مرکز امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہوں گے۔ اخبار کے مطابق بورڈ آف پیس سے متعلق قرارداد کے متن میں واضح کیا گیا ہے کہ غزہ کی مجموعی نگرانی اور انتظامی انچارج امریکا ہوگا۔
امریکی اخبار کے مطابق معاہدے کی شقوں میں یہ بھی درج ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس کے اگلے چیئرمین کو نامزد کرنے کا مکمل اختیار بھی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے پاس ہوگا، جس سے اس بورڈ میں امریکا کے مرکزی کردار کی عکاسی ہوتی ہے۔ اخبار کا کہنا ہے کہ اس انتظام کے تحت فیصلہ سازی میں حتمی اثر و رسوخ امریکی قیادت کو حاصل ہوگا۔
رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ غزہ بورڈ آف پیس میں شامل دیگر ممالک کا کردار بنیادی طور پر معاون اور مددگار نوعیت کا ہوگا۔ ان ممالک کی ذمہ داریوں میں مشاورت، تکنیکی معاونت اور علاقائی تعاون شامل ہوگا، تاہم پالیسی اور کلیدی فیصلوں میں مرکزی اختیار امریکا کے پاس ہی رہے گا۔
واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دیے گئے غزہ بورڈ آف پیس میں پاکستان، قطر، سعودی عرب، ترکیے، انڈونیشیا، بحرین، مصر، اردن، قازقستان، ازبکستان اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کر چکے ہیں۔ ان ممالک کی شمولیت کو غزہ سے متعلق مستقبل کے سیاسی و انتظامی معاملات میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔
اس کے علاوہ ارجنٹینا، آرمینیا، آذربائیجان، بیلاروس، ہنگری، کوسوو، مراکش اور ویتنام نے بھی غزہ بورڈ آف پیس میں شمولیت کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب یورپی ممالک اٹلی اور اسپین نے غزہ بورڈ آف پیس میں شامل ہونے سے انکار کر دیا ہے، جسے اس منصوبے پر بین الاقوامی اختلافات کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔
سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ بورڈ آف پیس میں امریکا کو مرکزی اختیار دینا خطے کی سیاست اور مستقبل کے انتظامی ڈھانچے پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے، جبکہ اس اقدام پر عالمی سطح پر بحث اور ردِعمل کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

