کراچی میں آتشزدگی کے المناک واقعے کے بعد سندھ کے سینئر وزیر اور صوبائی وزیر اطلاعات شرجیل انعام میمن نے کہا ہے کہ گل پلازہ کی دوبارہ تعمیر ایک بڑا منصوبہ ہے جسے مکمل ہونے میں کم از کم دو سال درکار ہوں گے۔ انہوں نے واضح کیا کہ سندھ حکومت متاثرہ تاجروں کو تنہا نہیں چھوڑے گی اور بحالی کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کیا جائے گا۔
جیو نیوز کے پروگرام جیو پاکستان میں گفتگو کرتے ہوئے شرجیل میمن نے کہا کہ حکومت کی اولین ترجیح انسانی جانوں کا تحفظ اور متاثرہ تاجروں کی بحالی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے گل پلازہ میں پیش آنے والے سانحے کی باقاعدہ انکوائری کا حکم دے دیا ہے اور انکوائری رپورٹ کسی بھی وقت موصول ہو سکتی ہے۔
شرجیل میمن نے کہا کہ اگر انکوائری رپورٹ اطمینان بخش نہ ہوئی تو حکومت فوری طور پر جوڈیشل انکوائری کرائے گی۔ انہوں نے واضح کیا کہ رپورٹ میں جس فرد یا ادارے کو بھی ذمہ دار ٹھہرایا گیا، اس کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی اور کسی کو بھی قانون سے بالاتر نہیں سمجھا جائے گا۔
صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت گل پلازہ کو از سرِ نو تعمیر کرنے جا رہی ہے اور نئی عمارت میں اتنی ہی دکانیں بنائی جائیں گی جتنی پہلے موجود تھیں، تاکہ کسی بھی تاجر کا حق متاثر نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ تعمیر کے دوران متاثرہ تاجروں کو قریبی پلازوں میں موجود دکانوں میں عارضی طور پر منتقل کیا جائے گا، تاکہ ان کا روزگار بحال رہے اور معاشی نقصان کم سے کم ہو۔
شرجیل میمن نے مزید بتایا کہ کراچی چیمبر آف کامرس حکومت کے ساتھ مل کر مختلف مارکیٹ ایسوسی ایشنز سے ملاقاتیں کر رہا ہے اور مارکیٹوں میں حفاظتی اقدامات سے متعلق ایس او پیز پر بات چیت جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن مارکیٹوں میں حفاظتی ایس او پیز پر مکمل عملدرآمد نہیں ہوگا، انہیں بند کر دیا جائے گا کیونکہ انسانی جانوں پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جا سکتا۔
انہوں نے کہا کہ حالیہ واقعات نے اس بات کو واضح کر دیا ہے کہ کراچی کی کمرشل عمارتوں اور مارکیٹوں میں فائر سیفٹی اور دیگر حفاظتی انتظامات کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ حکومت آئندہ ایسے تمام اقدامات کرے گی جن سے مستقبل میں اس قسم کے حادثات سے بچا جا سکے۔

