اسلام آباد: توشہ خانہ ٹو کیس کے بعد عمران خان کی رہائی کے امکانات محدود، قید طویل ہونے کا خدشہ
اسلام آباد میں قانونی حلقوں کے مطابق توشہ خانہ ٹو کیس میں سابق وزیر اعظم عمران خان اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کو سنائی گئی 17-17 سال قید کی سزا کے بعد ان کی فوری رہائی کے امکانات مزید محدود ہو گئے ہیں۔ اس فیصلے کے بعد عمران خان کی مسلسل قید کے بڑھنے کے خدشات سامنے آ رہے ہیں۔
ماہرینِ قانون کے مطابق، اپیل کا مرحلہ خود ایک بڑی رکاوٹ بن چکا ہے۔ القادر ٹرسٹ کیس میں دونوں کی 14 سالہ سزا کیخلاف اپیل جنوری 2025ء میں دائر کی گئی تھی، لیکن ایک سال گزرنے کے باوجود اسلام آباد ہائی کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر نہیں ہو سکی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کی فکسیشن پالیسی کے تحت فوجداری نوعیت کی اپیلیں سینیارٹی کی بنیاد پر سماعت کے لیے مقرر کی جاتی ہیں، جس میں پرانے مقدمات خصوصاً سزائے موت یا عمر قید سے جڑے کیسز کو ترجیح دی جاتی ہے۔ نتیجتاً، معمول کے عدالتی طریقۂ کار کے مطابق عمران خان کی اپیل کی جلد سماعت کا امکان کم ہے، سوائے اس کے کہ عدالت انہیں ترجیحی بنیادوں پر شامل کرے۔
پارٹی ذرائع نے اعتراف کیا ہے کہ اگر ترجیحی سماعت نہ دی گئی تو اپیل کے لیے مزید کئی ماہ لگ سکتے ہیں۔ دسمبر 2025ء میں توشہ خانہ ٹو کیس میں سزا کے بعد صورتحال مزید سنگین ہو گئی ہے، اور قانونی ذرائع کے مطابق اپیل پر کارروائی ایک سال یا اس سے زائد وقت لے سکتی ہے۔
عمران خان کے خلاف 9 مئی سے متعلق متعدد مقدمات بھی مختلف مراحل پر زیرِ التوا ہیں۔ پی ٹی آئی کے قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ استغاثہ اب بھی مقدمات کو طول دے سکتا ہے، جس سے کسی ایک کیس میں بریت یا ضمانت کے باوجود رہائی ممکن نہیں ہو سکے گی۔
پارٹی کے سینئر رہنما بھی تسلیم کرتے ہیں کہ قانونی راستہ تیزی سے تنگ ہوتا جا رہا ہے، اور سخت گیر عناصر کی مسلسل محاذ آرائی کی پالیسی نے سیاسی یا عدالتی ریلیف کے امکانات کو مزید محدود کر دیا ہے۔
انتہائی خوش گمان صورت میں بھی اگر ہائی کورٹ سے بریت حاصل ہو جائے، تو اپیل کے مجموعی عدالتی عمل طویل اور وقت طلب رہنے کا امکان ہے۔ موجودہ عدالتی ٹائم لائن کے مطابق، جب تک عدالت اپیلوں کو ترجیحی بنیادوں پر سماعت کے لیے نہیں لیتی، یا کوئی غیر متوقع پیش رفت نہیں ہوتی، عمران خان کی قید کا سلسلہ طویل عرصے تک جاری رہنے کا خدشہ موجود ہے۔

