سانحہ گل پلازہ پر حکومت کی جانب سے قائم تحقیقاتی کمیٹی کی رپورٹ منظرِ عام پر آ گئی ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گل پلازہ میں آگ گراؤنڈ فلور کی دکان نمبر 193 میں لگی۔
دکان کے مالک نے اپنے 11 سالہ بیٹے کو دکان پر چھوڑ رکھا تھا، جس نے ماچس جلائی جو مصنوعی پھولوں پر گر گئی اور آگ بھڑک اٹھی، جبکہ آتش گیر مواد کی موجودگی کے باعث آگ تیزی سے پھیلتی چلی گئی۔
رپورٹ کے مطابق عمارت میں غیر محفوظ برقی وائرنگ، ایئر کنڈیشنرز اور کھلے پائپوں نے صورتِ حال کو مزید سنگین بنا دیا۔ فائر ٹینڈرز کو پانی کی فراہمی میں نمایاں تاخیر کا سامنا کرنا پڑا، پہلا واٹر باؤزر رات گیارہ بج کر 53 منٹ پر موقع پر پہنچا، جبکہ پانی کی مسلسل فراہمی رات 12 بجے کے بعد شروع ہو سکی۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ متاثرین کو نکالنے کے لیے لوہے کی راڈز کاٹنے کے لیے مناسب آلات موجود نہیں تھے۔ فائر فائٹرز کے پاس نہ تو مناسب آلات تھے اور نہ ہی حفاظتی سامان، جبکہ مطلوبہ تربیت اور مہارت کی بھی واضح کمی پائی گئی۔
تحقیقاتی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا کہ ہجوم کو قابو میں رکھنے اور علاقے کو گھیرے میں لینے سے متعلق پولیس کے اقدامات مؤثر ثابت نہیں ہو سکے، جس کے باعث امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آئیں۔
رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی کہ عمارت میں موجود خارجی راستے بند تھے یا وہاں تجاوزات قائم ہو چکی تھیں۔ رپورٹ کے مطابق سیڑھیوں کی چوڑائی کم کر دی گئی تھی جبکہ دروازوں کی تعداد 18 سے کم کر کے 13 کر دی گئی، جس سے ہنگامی حالات میں انخلا شدید متاثر ہوا۔
کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ تمام ہائی رسک عمارتوں کا فوری آڈٹ کروایا جائے اور خلاف ورزی کی صورت میں جرمانے، جزوی بندش یا عمارت کو سیل کرنے کی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
یاد رہے کہ سانحہ گل پلازہ میں مجموعی طور پر 79 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں سے اب تک 39 افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ جاں بحق افراد میں سے 20 کی شناخت ڈی این اے کے ذریعے، 6 کی چہرہ شناسی کے ذریعے جبکہ ایک شخص کی شناخت قومی شناختی کارڈ کے ذریعے کی گئی ہے۔

