سری لنکا نے بنگلادیش کو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے باہر کرنے کے معاملے پر موقف دے دیا
آئی سی سی کی جانب سے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سے بنگلادیش کو باہر کرنے کے تنازع پر بالآخر سری لنکا نے خاموشی توڑ دی۔ آئی سی سی اور بنگلادیش کے درمیان یہ تنازع تقریباً تین ہفتے تک جاری رہا، اور بھارتی کرکٹ بورڈ کے اثر میں آئی سی سی نے بنگلادیش کے جائز مطالبے کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اسے ٹورنامنٹ سے باہر کر دیا۔
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بنگلادیش کے چار میچز کلکتہ میں شیڈول تھے، لیکن ہندو انتہا پسندوں کی دھمکیوں اور بنگلادیش کے فاسٹ بولر مستفیض الرحمان کو آئی پی ایل سے نکالے جانے کے بعد بنگلادیش کرکٹ بورڈ نے مطالبہ کیا کہ ان کے میچز سری لنکا منتقل کیے جائیں کیونکہ بھارت میں کھلاڑی محفوظ نہیں ہیں۔
اس فیصلے کو کرکٹ ماہرین اور بھارتی صحافیوں نے حیران کن اور تنقید کا نشانہ بنایا، اور بی سی سی آئی کی انا کو اس فیصلے کی بڑی وجہ قرار دیا جا رہا ہے۔ اس دوران یہ خبریں بھی گردش کر رہی ہیں کہ پاکستان کرکٹ بورڈ بھی ورلڈکپ کا بائیکاٹ کر سکتا ہے یا بھارت کے خلاف میچ نہ کھیلے۔
سری لنکن کرکٹ بورڈ نے طویل خاموشی کے بعد اب اپنا موقف ظاہر کیا ہے۔ سری لنکا کے کرکٹ سیکرٹری بندولا ڈسا نائیکے نے کہا کہ بھارت، بنگلادیش اور پاکستان کے تنازع پر سری لنکا نیوٹرل رہتا ہے کیونکہ یہ تمام ہمارے دوست ممالک ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر سری لنکا کو کہا گیا تو ہم مستقبل میں بھی ٹورنامنٹس کی میزبانی کے لیے تیار ہیں۔
سری لنکا کے وزیر کھیل سنیل کمار گمباگے نے کہا کہ سری لنکا اس بات کو ترجیح دے رہا ہے کہ ٹورنامنٹ بہترین طریقے سے چلایا جائے، اور پاکستان اور بھارت کے میچ پر خاص توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ فروری میں شروع ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں پاکستان کے تمام میچز سری لنکا میں شیڈول ہیں، ٹورنامنٹ کا آغاز 6 فروری سے ہوگا اور اختتام 8 مارچ کو ہوگا۔

