کراچی، پاکستان کا معاشی حب، بے ہنگم اور غیر قانونی تعمیرات کے باعث شدید بحران کا شکار ہے۔ شہر کا نقشہ کئی دہائیوں سے بکھرا ہوا ہے اور درجنوں ادارے زمین کی ملکیت کے دعویدار ہیں۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی سمیت مختلف اداروں میں مبینہ کرپشن کی وجہ سے شہر کنکریٹ کے بے ہنگم جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے، جبکہ رہائشی یونٹس اور کرائے آسمان کو چھونے لگے ہیں۔
کراچی کی زمین 24 سے زائد اداروں کے کنٹرول میں ہے، جن میں صوبائی، وفاقی اور عسکری ادارے شامل ہیں۔ شہر کے انتظامی امور 30 سے زائد اداروں کے پاس ہیں، جس کی وجہ سے شہری منصوبہ بندی اور زمینی انتظام کا کوئی مرکزی ادارہ موجود نہیں۔ کراچی میں مرکزی شاہراہیں کراچی میٹروپولیٹن کارپوریشن کے ماتحت ہیں جبکہ گلیاں اور اندرونی سڑکیں ٹاؤن میونسپل کارپوریشنز کی ذمہ داری میں ہیں۔
اس کے علاوہ شہر میں 25 ٹاؤنز، درجنوں صوبائی و وفاقی محکمے اور کئی عسکری تنظیمیں اپنی اپنی زمین اور حدود کی مالک ہیں، جن میں کراچی ڈیولپمنٹ اتھارٹی، لیاری ڈیولپمنٹ اتھارٹی، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی، کراچی پورٹ ٹرسٹ، پورٹ قاسم اتھارٹی، سندھ کچی آبادی اتھارٹی، سندھ انڈسٹریل اینڈ ٹریڈنگ اسٹیٹ، بورڈ آف ریونیو، سول ایوی ایشن اتھارٹی، پاکستان ریلوے، پاکستان اسٹیل ملز، ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی اور چھ کینٹونمنٹ بورڈز شامل ہیں۔
پاک نیوی، فضائیہ اور وزارت دفاع کے تحت آنے والی اراضی پر کسی سول ادارے کی مداخلت نہیں ہو سکتی۔ شہری منصوبہ بندی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کا اصل مسئلہ وسائل کی کمی نہیں بلکہ یہ ہے کہ شہر کا کوئی ایک مرکزی مالک یا اتھارٹی موجود نہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق کراچی کی زمین کا 56 فیصد صوبائی اداروں کے پاس ہے، 32 فیصد بلدیاتی اداروں کے کنٹرول میں، 7 فیصد عسکری اداروں کے زیر انتظام، 5 فیصد وفاقی اداروں کے قبضے میں اور صرف 1.9 فیصد زمین نجی ملکیت میں ہے۔
کراچی میں رہائشی یا کمرشل پلاٹس پر تعمیرات کے لیے قانون موجود ہے، تاہم مبینہ کرپشن کے باعث رئیل اسٹیٹ کا شعبہ تخریب کا سبب بن چکا ہے۔ 250 گز سے 2 ہزار گز کے کمرشل پلاٹس کی مکمل منظوری کے لیے مبینہ طور پر 2 کروڑ سے 8 کروڑ روپے کی رشوت دی جاتی ہے، جبکہ تعمیرات کے دوران ماہانہ رشوت 2.5 لاکھ سے 3.5 لاکھ روپے تک ہوتی ہے۔
سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کے قانون کے مطابق 399 گز یا اس سے کم رہائشی پلاٹ پر قانونی طور پر گراؤنڈ پلس دو منزلہ مکان تعمیر کیا جا سکتا ہے۔ تاہم پورشن مافیا غیر قانونی طور پر اضافی منزلیں تعمیر کر کے رئیل اسٹیٹ کے قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ اس عمل میں مبینہ طور پر سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی، کے ڈی اے، کے ایم سی اور دیگر اداروں کے افسران ملوث ہیں، نیز جعلی این او سیز، بعض صحافی اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز بھی رشوت و بلیک میلنگ میں حصہ لیتے ہیں۔
کراچی کے مختلف علاقوں جیسے پی ای سی ایچ ایس، بہادر آباد، شرف آباد، دھوراجی، گلشن اقبال، گلستان جوہر، ناظم آباد، نارتھ ناظم آباد، شادمان ٹاؤن، فیڈرل بی ایریا، عزیز آباد، لیاقت آباد، نارتھ کراچی، نیو کراچی اور سرجانی ٹاؤن میں غیر قانونی تعمیرات جاری ہیں، جس کی وجہ سے شہر کا انفرا اسٹرکچر تباہ ہو رہا ہے اور پانی، سیوریج اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی متاثر ہو رہی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ کراچی کی ترقی کے لیے سب سے پہلے زمین کی ملکیت کے ریکارڈ کو یکجا کرنے اور ایک مرکزی ادارے کے ذریعے تمام زمینوں کی حدود اور ذمہ داریاں واضح کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے بغیر کراچی ہمیشہ ایک ایسا شہر رہ جائے گا جہاں زمین سب کی ہے لیکن کوئی مالک نہیں۔

